اسلام آباد ۔ 2 ستمبر (اے پی پی) الیکشن کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میںحائل آئینی اور قانونی پیچیدگیاں دور کریں۔ بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کی تیاری سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نے کی ۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ الیکشن کمیشن کے …
وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں حائل آئینی اور قانونی پیچیدگیاں دور کریں، الیکشن کمیشن

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 ستمبر (اے پی پی) الیکشن کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میںحائل آئینی اور قانونی پیچیدگیاں دور کریں۔ بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کی تیاری سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نے کی ۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ الیکشن کمیشن کے سینئر افسران اور متعلقہ شعبہ جات کے افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کو چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اب تک کئے گئے انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیاکہ صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حلقہ بندیوں کی تکمیل کا کام جاری ہے اور حلقہ بندیوں کی حتمی فہرستیں 25 اکتوبر کو عوام کے معائنہ کے لئے شائع کر دی جائیں گی۔ صوبائی الیکشن کمشنروں سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسروں ، ریٹرننگ آفیسروں اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسروں کی تعیناتی سے متعلق تجاویز مانگ لی گئی ہیں۔ انہیں یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ جونہی حلقہ کے کام کی تکمیل ہو تو ڈرافت پولنگ سٹیشنوں کی لست بھی تیار کی جائے تاکہ ریٹرننگ آفیسروں کو اپنا کام مکمل کرنے میں سہولت ہو۔ صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن میٹریل کے حصول کے لئے ضروری اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ الیکشن میٹریل کی خریداری و حصول سے متعلق بھی متعلقہ اداروں و حکام سے ابتدائی میٹنگ کی گئی ہے۔ صوبہ سندھ میں الیکشن کے انعقاد کے لئے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا نوٹیفکیشن کر دیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ میں الیکشن کے انعقاد کے لئے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا نوٹیفکیشن کردیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن کے انعقاد سے متعلق اب تک کئے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ کمیشن کی بار بار یادہانی کے باوجود پنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز ابھی تک صوبائی حکومت نے شائع نہیں کئے جن کی غیر موجودگی میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کے انعقاد میں دشواری آرہی ہے ۔خیبر پختونخوا نے 8 ڈویژنل ہیڈ کوارٹر سٹی لوکل کونسلوں کی حدود، نیبر ہڈ کونسلوں کی تعداد اور کیٹیگری وائس نشستوں کی تعداد مہیا نہیں کیں جس کی وجہ سے ابھی تک ان اضلاع میں حلقہ بندیوں کا کام شروع نہیں کیا جا سکا۔ اسی طرح الیکشن کمیشن کی بار بار یادہانیوں کے باوجود خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 میں بعض شقوں پر ابھی تک اجراءنہیں کیاگیا۔ خیبر پختونخوا لوکل کونسلز رولز کی ابھی تک اشاعت نہیں کی گئی۔ صوبائی حکومت سندھ کو نقشہ جات کا ریونیو حدود سے متعلق دستاویزات اور دیگر مطلوبہ ڈیٹا سے متعلق تحریر کیاگیا جو ابھی تک تمام اضلاع میں موصول نہیں ہوا جس کی وجہ سے حلقہ بندیوں کے کام کی تکمیل میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں بلوچستان ہائی کورٹ کے تحت حلقہ بندیوں کے کام کو روک دیا گیا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے دفتر کو احکامات جاری کئے تھے کہ بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010اور رولز کی جودفعات الیکشن ایکٹ 2017 سے متصادم ہیں ان پر ضروری قانون سازی کے لئے بلوچستان کو تحریر کی جائے تاکہ صوبہ میں انتخابات میں حائل رکاوٹوں کو بروقت دور کیا جا سکے۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ لوکل گورنمنٹ انتخابات کے راستے میں جتنی آئینی اور قانونی پیچیدگیاں ہیں ان کو جلد از جلد دور کیا جائے تاکہ الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنا سکے اور اپنی آئینی ذمہ داری کو پوری کر سکے۔








