اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل (انجماد و ضبطگی) آرڈر 2019ءجاری کر دیا۔ یہ آرڈر اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یو این ایس سی) ایکٹ 1948ء(ایکٹ نمبر XIV 1948) کی شقوں کے مطابق ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل (انجماد و ضبطگی) آرڈر 2019ءکا مقصد سلامتی کونسل کی جانب سے نامزد مخصوص افراد اور اداروں کے خلاف اعلان کردہ پابندیوں پر عملدرآمد کیلئے …
وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل (انجماد و ضبطگی) آرڈر 2019ءجاری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل (انجماد و ضبطگی) آرڈر 2019ءجاری کر دیا۔ یہ آرڈر اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یو این ایس سی) ایکٹ 1948ء(ایکٹ نمبر XIV 1948) کی شقوں کے مطابق ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل (انجماد و ضبطگی) آرڈر 2019ءکا مقصد سلامتی کونسل کی جانب سے نامزد مخصوص افراد اور اداروں کے خلاف اعلان کردہ پابندیوں پر عملدرآمد کیلئے طریقہ کار کو بروئے کار لانا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا چیپٹر VII اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اختیار دیتا ہے کہ آرٹیکل 41 کو بروئے کار لاتے ہوئے بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے اپنے فیصلوں کو مو¿ثر بنانے کیلئے مسلح فوج کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے اقدامات کرے۔ پاکستان میں سلامتی کونسل کے ایسے فیصلوں پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل ایکٹ (یو این ایس سی) 1948ء(ایکٹ نمبر XIV 1948) کے تحت عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کا نظام سالہا سال سے وضع ہوا ہے۔ ان پابندیوں کے نظام میں شامل ایک اقدام ”اثاثے منجمد کرنا“ ہے جس کے تحت رکن ممالک کو یو این ایس سی کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کی جانب سے پابندیوں کیلئے نامزد کئے جانے کے فوراً بعد ان افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد یا ضبط کرنے ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل (انجماد و ضبطگی) آرڈر 2019ءیو این ایس سی اور ایف اے ٹی ایف معیارات کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔ اس آرڈر کی کاپی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ www.mofa.gov.pk پر دستیاب ہے۔








