وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن 4 ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کیلئے وفاقی حکومت کو30روز میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن 4 ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے۔منگل کو سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی نے عدالت کو بتایاکہ کہ کومل اسماعیل کا شناختی کارڈ …

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کیلئے وفاقی حکومت کو30روز میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن 4 ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے۔منگل کو سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی نے عدالت کو بتایاکہ کہ کومل اسماعیل کا شناختی کارڈ بلاک کروا دیا،کومل کے شناختی کارڈ پر چار سمز ہیں لیکن نومبر کے بعد نمبر چل نہیں رہے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہاکہ 14 ستمبر کو پٹیشن دائر ہوئی اور نومبر میں کومل غائب ہو جاتی ہے،

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کہاکہ کومل ملک سے باہر نہیں گئی پاکستان میں ہی ہے، عدالت نے استفسار کیاکہ کومل کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہے؟ جس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہاکہ نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہے اور تلاش کی کوششیں جاری ہیں،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہاکہ یہ تو کومل کی اپنی حفاظت کا سوال کھڑا ہو گیا ہے،کومل کی اپنی جان خطرے میں ہو سکتی ہے، ایجنسی کیا اقدام کر سکتی ہے؟، ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ عدالت نے سیلولر نیٹ ورک کمپنیز سے تین نمبرز کا واٹس ایپ کا ڈیٹا مانگا تھا، وکیل سیلولرنیٹ ورک کمپنیز نے کہاکہ واٹس ایپ سی ڈی آر نہیں ہوتی، فون نمبر کی سی ڈی آر بھی ایک سال کی ہوتی ہے،

جسٹس سردار اعجازاسحاق خان نے کہاکہ یہ اختیار اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہے تو کمیشن اُسے کہہ سکتا ہے،یہ لوگوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے اس لیے اُنہیں کہا جا سکتا ہے،نیک محمد نے الزام لگایا ہے کہ ایمان نے اُس سے رابطہ کر کے اسے ٹریپ کیا،اِس میں دیکھا جانا تھا کہ کیا ایمان نے ملزم نیک محمد سے رابطہ کیا یا نہیں،تفتیشی نے کچھ نہیں دیکھا صرف ملزم کے فون سے پانچ تصویریں نکالیں اور کیس بنا دیا،ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ مقدمہ کا مدعی شیراز فاروقی نیک محمد کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے رابطے میں تھا،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہاکہ مدعی کیوں ملزم سے رابطے میں تھا کیا شیراز فاروقی یہ بتائیں گے؟،

اس موقع پر شیراز فاروقی نے روسٹرم پر آکر کہاکہ یہ سب جھوٹ ہے میرا کوئی رابطہ نہیں تھا،دلائل سننے کے بعد جسٹس سرداراعجازاسحاق خان نے کہاکہ اِس عدالت نے اس حد تک دیکھنا تھا کہ کیا کمیشن بنانے کیلئے مواد موجود ہے،عدالت نےکمیشن تشکیل دینے کی ڈائریکشن کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکومت کو 30 روز میں کمیشن بنانے کا حکم دے دیا اورکہاکہ کمیشن وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن4ماہ میں اپنی کاروائی مکمل کرے،کمیشن کو اگر مزید وقت چاہیے ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔