اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے مرد ملازم کو پدری رخصت دینے سے انکار پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا اور متعلقہ افسر کو مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پدری رخصت دینے کا حکم دے دیا۔ ترجمان کے مطابق وفاقی محتسب نے اپنے حتمی فیصلے میں قرار دیا کہ پدری رخصت سے انکار، کام کی جگہ پر …
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کا مرد ملازم کو مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پدری رخصت دینے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے مرد ملازم کو پدری رخصت دینے سے انکار پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا اور متعلقہ افسر کو مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پدری رخصت دینے کا حکم دے دیا۔
ترجمان کے مطابق وفاقی محتسب نے اپنے حتمی فیصلے میں قرار دیا کہ پدری رخصت سے انکار، کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے قانون ، 2010 کے تحت صنفی بنیادوں پر امتیاز کی ایک شکل ہے جو ہراسمنٹ کے مترادف ہے۔ شکایت سٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ایک افسر کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس کی میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 کے تحت 30 روزہ پدری رخصت کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کر دی گئی کہ متعلقہ پالیسی موجود نہیں حالانکہ قانون نافذ العمل تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ادارہ جاتی خودمختاری کا مؤقف قانونی حقوق سے انکار کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ فورم نے سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 سٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن آرڈیننس 2001 اور رولز آف بزنس 1973 کا جائزہ لینے کے بعد واضح کیا کہ سٹیٹ بینک وفاقی حکومت کی ملکیت اور نگرانی میں کام کرتا ہے، اس لئے وہ وفاقی فلاحی قانون سازی کے اطلاق سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا ۔
وفاقی محتسب نے بینک پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ چار لاکھ روپے بطور ہرجانہ شکایت کنندہ کو ادا کئے جائیں جبکہ ایک لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جائیں۔ مزید ہدایت کی گئی کہ ادارہ اپنی لیو پالیسی کو میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو ایکٹ 2023 کے مطابق ہم آہنگ کرے۔
فیصلے میں واضح پیغام دیا گیا کہ اندرونی پالیسیوں کی آڑ میں قانونی اور آئینی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے اور کام کی جگہ پر صنفی برابری ہر ادارے پر لازم ہے۔








