اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وفاقی وزیراقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف، عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور ایشیئن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بنک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اورایجنسیوں نے پاکستان کی حکومت کی اقتصادی اصلاحات اورپالیسیوں کی پذیرائی کی ہے، معیشت پربیرونی دباﺅ کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا ہے، حسابات جاریہ کے خسارہ میں نمایاں کمی اورزرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ …
وفاقی وزیراقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار کا قومی اقتصادی سروے 2019-20 ءکے اجراءکے موقع پر معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وفاقی وزیراقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف، عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور ایشیئن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بنک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اورایجنسیوں نے پاکستان کی حکومت کی اقتصادی اصلاحات اورپالیسیوں کی پذیرائی کی ہے، معیشت پربیرونی دباﺅ کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا ہے، حسابات جاریہ کے خسارہ میں نمایاں کمی اورزرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ سے بہتر حکومتی اقدامات اورپالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں قومی اقتصادی سروے 2019-20 ءکے اجراءکے موقع پر حکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت پربیرونی مالیاتی دباﺅایک دیرینہ مسئلہ رہاہے تاہم موجودہ حکومت نے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے جو پالیسیاں بنائیں اس کے بہتر ثمرات دیکھنے میں آئے، ان اقدامات کی وجہ سے مالی سال میں حسابات جاریہ کا خسارہ 3.3 فیصد کی سطح پررہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان کا بیرونی قرضہ 76.5 ارب ڈالرکی سطح پرہے، 2008 سے لیکر2013 ءتک بیرونی قرضہ 41 ارب ڈالر سے بڑھ کر48 ارب ڈالر ہوگیا تاہم 2013 سے لیکر 2018ءتک پاکستان کا بیرونی قرضہ 48 ارب ڈالر سے 73 ارب ڈالر کی سطح پرپہنچا ہے، اس میں ٹریژری بانڈز اورکمرشل قرضہ کا حجم 15 ارب ڈالر رہا یہ قرضہ کی وہ شکل ہے جس کی معیاد کم اورسود زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وباءکے تناظرمیں حکومت نے گروپ 20 ممالک سے قرضہ میں ریلیف کی درخواست کی اوراس کے نتیجہ میں پاکستان کو ایک ارب اسی کروڑ ڈالر کا ریلیف ملا ہے، اسی طرح آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کی وباءکے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلئے 1.4 ارب ڈالر اورایشیائی ترقیاتی بنک نے 50 کروڑ ڈالر کے قرضہ کی منظوری دی ہے۔یہ سب پاکستان کی حکومت کی پالیسیوں پراعتماد کا مظہرہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر جو ہمیں نو اعشاریہ سات ارب ڈالر کی سطح پر ورثے میں ملے تھے وہ اٹھارہ ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں۔ مخدوم خسروبختیارنے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے زراعت کے شعبہ کی ترقی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر تین سو ارب روپے کی لاگت سے پروگرام کی منظوری دی ہے اس پروگرام کے نتیجہ میں زرعی پیداوار میں اضافہ اور پانی کی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف، عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور ایشین انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بنک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اورایجنسیوں نے پاکستان کی حکومت کی اقتصادی اصلاحات اورپالیسیوں کی پذیرائی کی ہے، حسابات جاریہ کے خسارہ میں نمایاں کمی اورزرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ سے بہتر حکومتی اقدامات اورپالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔








