راولپنڈی۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کے ایک ملازم کی 14 سالہ کمسن بیٹی کے بہیمانہ قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچی کے قتل پر انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور ذمہ دار ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے راولپنڈی میں …
وفاقی وزیرحنیف عباسی کا ریلوے ملازم کی کمسن بیٹی کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار
راولپنڈی۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کے ایک ملازم کی 14 سالہ کمسن بیٹی کے بہیمانہ قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچی کے قتل پر انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور ذمہ دار ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے راولپنڈی میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔
اس موقع پر انہوں نے غمزدہ خاندان کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور پاکستان ریلوے اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے ملازم کی کمسن بیٹی کا قتل نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک المناک سانحہ ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ 14 سالہ مقتولہ کا مقدمہ ان کا ذاتی مقدمہ ہے اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ان کی اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے نے سی پی او راولپنڈی سے براہِ راست رابطہ کیا اور کیس کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ سی پی او راولپنڈی نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ ملزم قانون کی گرفت کے قریب ہے اور تفتیش تیزی سے جاری ہے۔وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی نے اس موقع پر کہا کہ ظالموں اور درندہ صفت عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ کیس کی شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر تفتیش کو یقینی بنایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں اور حکومت شہریوں بالخصوص بچوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ریلوے کی انتظامیہ بھی متاثرہ خاندان کی ہر ممکن معاونت کرے گی۔








