کراچی۔ 15 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کا صحافیوں کے تحفظ کیلئے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کا ارادہ ہے، نئی قانون سازی خیبر پختونخوا میں نافذ ہونے والی قانون سازی کی طرح ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سینٹر فار ایکسیلنس ان جرنلزم آئی بی اے اور سینٹر فار کمیونیکیشن پروگرامز پاکستان …
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا جرنلزم ایوارڈ کی تقریب سے خطاب
کراچی۔ 15 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کا صحافیوں کے تحفظ کیلئے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کا ارادہ ہے، نئی قانون سازی خیبر پختونخوا میں نافذ ہونے والی قانون سازی کی طرح ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سینٹر فار ایکسیلنس ان جرنلزم آئی بی اے اور سینٹر فار کمیونیکیشن پروگرامز پاکستان کے صحافیوں کیلئے تیسرے ”لب آزاد“ جرنلزم ایوارڈ 2018ءکی تقریب کے دوران کیا۔ اس ایوارڈ کیلئے ملک بھر کے صحافیوں نے یکم جولائی 2017ءسے 15 جنوری 2019ءتک شائع ہونے والی اپنی اسٹوریز جمع کرائی تھیں۔ سالانہ انڈیپنڈنٹ ایوارڈ کا مقصدانسانی حقوق خاص طور پر ایسے مسائل کے بارے میں رپورٹنگ جو معاشرے کے نظر انداز اور پسماندہ طبقے کو متاثر کرتی ہے، کو اجاگر کرنا اور فروغ دینا ہے ۔ یہ ایوارڈز پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ان صحافیوں میں تقسیم کئے گئے جنھوں نے ان غیر معمولی کہانیوں کے ذریعے معاشرے کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والے مسائل کو اجاگر کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے کہاکہ وہ اپنی وزارت میں اصلاحات لارہے ہیں۔ انہوں نے سینٹر فار ایکسلنس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے، یہ ایک شاندار قدم ہے۔ فواد چوہدری نے اعلان کیا کہ خیبر پخونخوا کی قانون سازی کی طرح وزارتِ اطلاعات میڈیا ٹیکنالوجی سکول، جرنلزم پروٹیکشن ایکٹ، صحافیوں کے مفادات کے تحفظ اور انہیں انشورنس فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر سینٹر فار ایکسلنس ان جرنلزم آئی بی اے کے ڈائریکٹر کمال صدیقی نے کہاکہ ان ایوارڈ کا مقصد اچھی صحافت کی حوصلہ افزائی اور سماجی معاملات پر رپورٹنگ میں فرق نمایاں کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم بہت بہتر کرسکتے ہیں اور یہ پلیٹ فارم اچھی صحافت کرنے والے صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس موقع پر ممتاز صحافی غازی صلاح الدین نے کہاکہ میڈیا ایک ایسی آواز ہے جو معاشرے کی آزادی کی حفاظت کرتی ہے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والے صحافیوں میں اردو اخبارات اور آن لائن تحریر میںشاندار رپورٹنگ میں صحت کے حقوق پر محمد عاطف شیخ، بچوں کے حقوق پر حنا سعید، عورتوں کے حقوق پر محمد عاطف شیخ ، انگلش اخبارات اور آن لائن شاندار رپورٹنگ میں صحت کے حقوق پر حنا سعید، بچوں کے حقوق پر راشدہ صادق کیانی ، عورتوں کے حقوق پر ثمن خان، ڈسٹرکٹ کارسپونڈنس میں شاندار رپور ٹنگ پر صحت کے حقوق پر مریب محمد، بچوں کے حقوق پر عمر باچا، عورتوں کے حقوق پر محمد یوسف، انگلش اخبارات اور آن لائن کنٹینٹ شاندار رپورٹنگ پر بچوں کے حقوق پر زوفین ابراہیم، صحت کے حقوق پر زاری جلیل اور بچوں کے حقوق پر غلام دستگیر خان اور محمد رضوان صفدر شامل ہیں۔ ایوارڈز کے لئے تجربہ کار صحافیوں کی آزاد جیوری نے جمع کرائی گئی رپورٹس اور اسٹوریز کا جائزہ لیا اور جامع معیار کے ذریعے ایوارڈ جیتنے والے صحافیوں کا انتخاب کیا۔ پینل میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کیلئے اشرف خان اور اویس توحید، ضلعی نامہ نگاروں کیلئے فرحان ضیائ، اردو اخبارات اور آن لائن مواد کیلئے ایاز خان اور انگلش اخبارات اور آن لائن مواد کیلئے زیب النساءبرکی شامل تھیں۔








