وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی ملاقات، پاک-چین اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال

"وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے ملاقات کی، جس میں پاک۔چین اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور دوطرفہ مالی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔”

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان کے عوامی جمہوریہ چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے ملاقات کی جس میں پاک- چین اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور دوطرفہ مالی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ نے چین میں پاکستان کی اقتصادی سفارتکاری کو فروغ دینے کے لئے سفیر خلیل ہاشمی کی کاوشوں کو سراہا اور پاکستانی و چینی کاروباری اداروں کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ میں پاکستانی سفارتخانے کے فعال کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ معیاری سرمایہ کاری کا حصول، برآمدات میں اضافہ اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا حکومت کی اقتصادی ترجیحات میں شامل ہے۔ سفیر خلیل ہاشمی نے وزیرِ خزانہ کو بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی اور چینی اداروں کے درمیان 20 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہو چکے ہیں جن پر عملدرآمد کی نگرانی کے لئے ایک خصوصی نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے متعدد منصوبے باضابطہ معاہدوں اور تجارتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے تعاون میں حوصلہ افزا ء پیشرفت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سفیر نے مزید بتایا کہ چینی نجی شعبہ مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، فارماسیوٹیکل، بایوٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل اور صنعتی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں فارماسیوٹیکل اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں 9معاہدے طے پائے ہیں جبکہ سفارتخانے کے سرمایہ کاری سہولت پلیٹ فارم کے ذریعے اس وقت 150 سے زائد چینی کمپنیوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں صنعتی مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور برآمدات پر مبنی ٹیکسٹائل منصوبوں پر جاری پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ملاقات میں خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لئے معروف چینی صنعتی پلیٹ فارمز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کاروباری روابط کو فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے سرمایہ کاروں سے روابط کے لئے سفارتخانے کے منظم طریقہ کار، شعبہ وار آگاہی، منصوبوں کی پیشگی تیاری اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو پاکستانی کاروباری اداروں سے جوڑنے کی کوششوں کو سراہا۔ اجلاس میں سرمایہ جاتی منڈیوں، خودمختار مالیاتی وسائل اور مالیاتی جدت کے نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔ سفیر نے چینی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ جاری رابطوں، آئندہ سرمایہ کاری روڈ شوز کی تیاری اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور سلک روڈ فنڈ جیسے اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات سے بھی آگاہ کیا۔ سفیر خلیل ہاشمی نے نئی چینی سرمایہ کاری کے تقاضوں کے مطابق فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کو ہم آہنگ کرنے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا تاکہ ابھرتی ہوئی صنعتوں کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط اور سرمایہ کاری کی سہولت کاری کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے وعدوں کو بروقت عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور نئی اقتصادی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تمام سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ ملاقات میں چین۔پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے تحت اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے برآمدات میں اضافے، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے فروغ، پاکستانی مصنوعات کے لیے بہتر مارکیٹ رسائی اور طویل المدتی صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔وزیرِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اصلاحات کے تسلسل، کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری کی بہتر سہولت کاری اور چینی سرکاری و نجی شعبے کے ساتھ مسلسل روابط کے ذریعے چین کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گی۔

مزید خبریں