اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) ملک میں گزشتہ چار سالوں کے دوران دھرنوں، پانامہ لیکس، ڈان لیکس ، لاک ڈاﺅن اور دیگر واقعات کے نتیجے میں قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ٹھوس اور پائیدار پالیسیوں نے معیشت کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیا اور شرح نمو 10 سالوں کی بلند ترین سطح 5.3 فیصد تک پہنچ …
وفاقی وزیر احسن اقبال،اقتصادی و مالیاتی ماہرین کا اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) ملک میں گزشتہ چار سالوں کے دوران دھرنوں، پانامہ لیکس، ڈان لیکس ، لاک ڈاﺅن اور دیگر واقعات کے نتیجے میں قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ٹھوس اور پائیدار پالیسیوں نے معیشت کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیا اور شرح نمو 10 سالوں کی بلند ترین سطح 5.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی و مالیاتی ماہرین کے مطابق کہ اگر ملک میں اس عرصہ کے دوران ماحول بے یقینی کا شکار نہ ہوتا تو ملکی معیشت بہت بہتر کارکردگی دکھاتی۔ 2014ءکے دھرنوں اور اس کے بعد امن و امان کی صورتحال، مختلف لیکس اور ان کے نتیجے میں سیاسی بے یقینی سے نہ صرف ملکی معیشت کو نقصانات پہنچے بلکہ کسی حد تک ترجیحات سے توجہ ہٹانے کا موجب بھی بنی جس کے نتیجے میں بھاری نقصانات ہوئے۔ حکومت کی جانب سے ان تمام کارروائیوں کو ملک میں تیز اقتصادی ترقی کو روکنے کیلئے سازشیں تصور کیا گیا کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی توجہ کا محور ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے پائیدار پالیسیاں اختیار کیں اور ملکی معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور یہ کامیابی مخالفین کو ہضم نہیں ہو سکی ہے۔ موجودہ صورتحال کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں سے ملک میں لگایا گیا ڈرامہ بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے نہیں بلکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ہے۔








