اسلام آباد ۔ 5 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی تحقیقاتی اداروں کا حق ہے، یہ کارروائیاں الیکشن کے انعقاد پر اثر انداز نہیں ہوں گی، اگر کسی کو تحقیقاتی اداروں کی کارروائی سے اختلاف ہے تو وہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کر سکتے ہیں، حکومتوں کا کام تحقیقاتی ایجنسیوں کی …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر سید علی ظفر کا ”پاکستانی ادب کے 70 سال“ کے موضوع پر منعقدہ قومی ادبی سیمینار سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی تحقیقاتی اداروں کا حق ہے، یہ کارروائیاں الیکشن کے انعقاد پر اثر انداز نہیں ہوں گی، اگر کسی کو تحقیقاتی اداروں کی کارروائی سے اختلاف ہے تو وہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کر سکتے ہیں، حکومتوں کا کام تحقیقاتی ایجنسیوں کی تحقیقات یا عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنا نہیں ہے، اداروں کو طاقتور اور آزاد بنانے کیلئے ایسے اقدامات کی سخت ضرورت ہے، عام انتخابات کو پرامن بنانے کیلئے فول پروف سیکورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں گے جس پولنگ سٹیشن پر جتنی سیکورٹی درکار ہو گی وہ فراہم کی جائے گی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کی اپ گریڈیشن کا نہ ہونا ہے، آنے والے چند دنوں میں فاٹا کے انضمام کے بعد سہولیات کی فراہمی اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالہ سے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ وہ جمعرات کواکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ”پاکستانی ادب کے 70 سال“ کے موضوع پر منعقدہ قومی ادبی سیمینار سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر سیّد علی ظفر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پوری قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ 25 جولائی 2018ءکو ہی عام انتخابات کا انعقاد ہو گا، نگراں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ آئندہ عام انتخابات کو صاف شفاف، پرامن اور غیر جانبدارانہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی تحقیقاتی ادارہ قانون اور آئین کے مطابق کارروائیاں کر رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے، اگر کسی کو تحقیقاتی ایجنسی سے کوئی شکایت ہے تو وہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے فورم سے رجوع کر سکتا ہے، عدلیہ حق اور انصاف کا فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی منتخب حکومت کیلئے بھی یہی گائیڈ لائن چھوڑ کر جائیں گے کہ تحقیقاتی اداروں کی کارروائی اور عدالتی امور میں حکومتی مداخلت نہیں ہونی چاہئے، انہی کاوشوں سے ادارے طاقتور اور آزاد ہوتے ہیں اور یہی کام ہم بھی کر رہے ہیں۔








