اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی)وفاقی وزیر اطلاعات،نشریات ،قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ انتہا پسندی کی بڑی وجوہات تعلیم کی کمی ، غربت، بڑھتی ہوئی آبادی اور مذہبی عدم برداشت ہیں ، ان پر قابو پانے کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔وہ منگل کو قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سید علی ظفرکا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کے سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی)وفاقی وزیر اطلاعات،نشریات ،قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ انتہا پسندی کی بڑی وجوہات تعلیم کی کمی ، غربت، بڑھتی ہوئی آبادی اور مذہبی عدم برداشت ہیں ، ان پر قابو پانے کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔وہ منگل کو قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر سید علی ظفر نے کہا کہ کسی بھی رنگ نسل سے تعلق ہو ریاست میں سب برابر ہیں،مذہب کے نام پر انتہا پسندی پاکستان کا نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں شدت پسندی کو انسانیت کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہیئے،کوئی مذہب بھی دوسرے مذہب کے ساتھ ناانصافی کا درس نہیں دیتا،سب کا مذہب محبت اور امن سکھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ غربت اور تعلیم کے فقدان کے ساتھ دہشتگردی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ،ہمیں باتوں کی نہیں کچھ کرنے کی ضرورت ہے،ہمارا مذہب پیار کا درس دیتا ہے،ہمیں بنیادی مسئلوں کو پہلے ٹھیک کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو لوگوں کی بہتری کے لئے اقدامت کرنے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگ صرف ہاتھ نہیں ملاتے ایک دوسرے کو احساس دلاتے ہیں کہ کتنی قربت ہے لوگوں کے درمیان ۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے کمیشن کے لئے حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کمیشن کوآزاد اور خودمختار بنائے اور انسانی حقوق کے لئے کمیٹیوں کو طے شدہ فنڈنگ بھی ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام رنگ نسل کے تفرقے سے بالاتر ہمیں سوچنا پڑے گا ، حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ لوگوں کی خدمت کرے انکو وقت دے اور انکی بھلائی کے لئے تیار رہے۔








