وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے لوٹ کھسوٹ کر کے ملک کی بنیادوں کو کمزور کیا ہے، ملک میں برسوں سے قانون کی بالادستی نہیں ہے جس کی وجہ سے جن لوگوں کو جیلوں میں ہونا چاہیے تھا وہ سکون سے زندگیاں گزار رہے ہیں، سابق حکمرانوں نے اداروں کو مضبوط کرنے کی …

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے لوٹ کھسوٹ کر کے ملک کی بنیادوں کو کمزور کیا ہے، ملک میں برسوں سے قانون کی بالادستی نہیں ہے جس کی وجہ سے جن لوگوں کو جیلوں میں ہونا چاہیے تھا وہ سکون سے زندگیاں گزار رہے ہیں، سابق حکمرانوں نے اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے اپنے نیٹ ورک کو مضبوط بنایا اور خوب مال بنایا، نیب کا سارا سیٹ اپ سابقہ حکومتوں کا بنایا ہوا ہے، موجودہ حکومت کا نیب پر اثر ہوتا تو شریف برادران جیلوں سے باہر نہ آتے، ن لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی نے نیب کو سیاسی انجنیئرنگ کے طور پر استعمال کیا جس پر انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ن لیگ اور پی پی پی کے رہنماﺅں میں اخلاقی جرات نہیں ہے کہ یہ نیب اور احتساب پر بات کر سکیں، ن لیگ کا اخلاقی جواز نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فارن فنڈنگ کیس پر بات کرے، اوورسیز پاکستانیز نے فارن فنڈنگ کی ہے اور کم از کم پیسہ ملک کے اندر آیا ہے، ن لیگ اور پی پی پی ملک سے پیسہ باہر بھیجنے کا حساب دیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کا کام ہی حکومت پر الزام تراشیاں کرنا ہے، یہ لوگ دوسروں پر پتھر پھینکنے کی بجائے بتائیں کہ کیسے بیرون ممالک جائیدادیں بنائیں اور انکم ٹیکس دیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ماضی میں نیب کو سیاسی انتقام لینے کیلئے استعمال کیا اور ایک دوسرے پر کیسز بنائے، دونوں جماعتوں کا آپس میں مک مکاﺅ تھا اسلئے ایک دوسرے کو راستہ دیتی تھیں، جب یہ لوگ نیب کے شکنجے میں آئے تو انہیں سیاسی انجنیئرنگ، ووٹ کی عزت اور نیب قوانین میں ترامیم یاد آ گئیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ حکومت نیب قوانین میں اصلاحات کے حق میں ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں نیب قوانین میں ترامیم میں دلچسپی نہیں رکھتیں، حکومت چاہتی ہے کہ ایسی ترامیم ہوں کہ جس سے احتساب کے نظام میں مزید شفافیت اور مضبوطی آئے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے اداروں کو کھوکھلا کیا ہے، پی ٹی وی، پی آئی اے اور اسٹیل ملز سمیت تمام اداروں کو تباہ کر دیا ہے، موجودہ حکومت اداروں کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ حکومت کا کام سزا دینا نہیں بلکہ اداروں کو آزاد اور ٹھیک کرنا ہے جس کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، نیب آزادانہ طور پر بدعنوان عناصر کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے، موجودہ حکومت پر نیب پر اثر ہوتا تو نواز شریف اور شہباز شریف جیل سے باہر نہ بیٹھے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک میں قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے 40 سال پرانے کیس کی بھی منی ٹریل دی اور قصہ ختم ہو گیا لیکن ن لیگ کے قائدین عدالتوں میں منی ٹریل نہیں دے سکے اور خود کو بچانے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیتے رہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ کورونا وائرس وباءکی وجہ سے ملک بحران کا شکار رہا لیکن نواز شریف لندن میں ہوا خوری کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر معاونین خصوصی اور مشیروں نے اپنے اثاثے ظاہر کئے جس پر حکومت کو کریڈٹ ملنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نیب اور ایف اے ٹی ایف بل کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان گرے لسٹ میں جائے اسلئے کوشش ہے کہ جلد از جلد ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر قانون سازی ہو۔