وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے، شہداءکی قربانیوں کی وجہ سے ہمیں آزادی کی نعمت میسر ہے، بھارت اندرونی معاملات …

اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے، شہداءکی قربانیوں کی وجہ سے ہمیں آزادی کی نعمت میسر ہے، بھارت اندرونی معاملات کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے سے گریز کرے، انتہا پسندی کے خلاف متحد اور یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔ جمعہ کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خواجہ آصف نے ایوان میں بعض باتیں کی ہیں لیکن اتفاق رائے کا جو ماحول ہے وہ اس کو خراب نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح منو بھائی نے کہا کہ جنگ کسی کی سگی نہیں ہوتی، اس میں ہر طرف تباہی ہوتی ہے، پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ہم نے سب کی باتیں سنی ہیں، پورے ایوان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں بھی یہ اتفاق رائے موجود ہے یا نہیں، اس کا جواب نفی میں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلے سال دسمبر سے یہ خبریںآرہی تھیں کہ بھارت میں انتخابات کے تناظر میں وزیراعظم مودی جارحیت اور مخاصمت کا ماحول بنانا چاہتے ہیں، پاکستان کو اس کا ادراک تھا، وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں گروپ پی فائیو کے سفیروں کو بروقت آگاہ کردیا تھا اور ان سے درخواست کی تھی کہ وہ بھارت کو اس طرح کے ارادوں سے باز رکھیں، 14 فروری کو پلوامہ کا واقعہ ہوا، اس پر ہمیں افسوس ہے، اس میں جانی نقصان ہوا، 1947ءکے بعد بھارت کا یہ سب سے بڑا فوجی نقصان تھا اور اس پر بھارت کا غصہ فطری تھا لیکن اس کا ملبہ پاکستان پر گرانا درست نہیں ہے، بھارت کو خود بینی کی اشد ضرورت ہے، پلوامہ کے جس علاقے میں یہ واقعہ ہوا ہے وہاں پر بھارتی قابض فوجوں نے 100 بچوں کو شہید کیا ہے، وہاں پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات عام ہیں، بھارت کو جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا، وہاں کے واقعات کا ملبہ پاکستان پر نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، دہشت گردی کی وجہ سے ہم نے 70 ہزار انسانی جانوں کی قربانی دی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جنرل ثناءاللہ سے لے کر سپاہی اشفاق تک شہداءنے قربانیاں دی ہیں، ضلع جہلم میں 347 شہداءہیں، جہلم کا کوئی قبرستان اور کوئی گاﺅں ایسا نہیں ہے جہاں کوئی شہید اور غازی نہ ہو، انہی شہداءکی قربانیوں کا ثمر ہے کہ آج ہمیں آزادی میسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے خود بینی نہیں کی ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کو ہورہا ہے، جنگ کی صورت میں نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس صورتحال کے تناظر میں ہمیں بھی خود بینی کی ضرورت ہے، چالیس سال پہلے جو پالیسیاں ہم نے بنائی تھیں اس پر نظرثانی کرنی چاہیے، جس طرح آج یہ ایوان بھارتی جارحیت کے تناظر میں یکجا ہوا ہے، شدت پسندی کے معاملے میں اسی طرح یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اس صورتحال میں ایک عالمی مدبر (سٹیٹس مین) کا کردار ادا کیا ہے، کل انہوں نے ایوان میں اپوزیشن کا بھی شکریہ ادا کیا ہے، وزیراعظم کی قیادت میں مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا کردار ابھر کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں او آئی سی کے اجلاس میں بھارت کو مدعو کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ہے، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حکمران پاکستان کے دوست اور ہمدرد ہیں، او آئی سی کے اجلاس کے حوالے سے جو معاملہ سامنے آیا ہے وہ غلط فہمی میں ہوا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج بھارت تقسیم اور پاکستان متحد ہے، بھارت میں عقل و ہوش سے کام لینے والے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک انتہا پسند کے جھانسے میں نہ آئیں تو اس سے بھارت بھی نہیں بچے گا۔ وفاقی وزیر نے مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے۔

Leave a Reply