اسلام آباد ۔ 8 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ عمران خان نے جو تحریک چلائی وہ عام انسان کی آواز بنی، ملک سے کرپشن کے خاتمہ، گورننس کی بہتری اور مڈل کلاس کے حقوق کے اہم نکات پر وہ کھڑے ہوئے اور آج بھی کھڑے ہیں، پہلے مرحلہ میں حکومت کی تبدیلی ہوئی دوسرے مرحلہ میں نظام کو بدلیں …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا سینئر اینکر و قلم کار عالیہ شاہ کی نئی کتاب” عمران خان اور نیا پاکستان” کی تقریب رونمائی سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ عمران خان نے جو تحریک چلائی وہ عام انسان کی آواز بنی، ملک سے کرپشن کے خاتمہ، گورننس کی بہتری اور مڈل کلاس کے حقوق کے اہم نکات پر وہ کھڑے ہوئے اور آج بھی کھڑے ہیں، پہلے مرحلہ میں حکومت کی تبدیلی ہوئی دوسرے مرحلہ میں نظام کو بدلیں گے، عالیہ شاہ نے اپنی تصنیف ”عمران خان اور نیا پاکستان“ میں پی ٹی آئی کے دھرنے اور الیکشن 2018ءتک کا سفر قلمبند کیا ہے جو ان کی ایسے وقت میں قابل ستائش کاوش ہے جب کتب بینی کا رحجان کم ہو رہا ہے، گذشتہ ادوار میں ملکی خزانہ کو لٹیروں کی طرح لوٹا گیا، تحریک انصاف نے پہلی مرتبہ احتساب کی بات کی ہے، عمران خان نے جمود کو توڑا اور نواز شریف اور آصف علی زرداری کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لائے،آج نواز شریف اور آصف زرداری قصہ پارینہ بن چکے ہیں‘ پاکستان کی 5 ہزار 5 سو 47 ارب کی انکم کا تیسرا حصہ سود میں جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں نیشنل پریس کلب میں سینئر اینکر و قلم کار عالیہ شاہ کی نئی کتاب” عمران خان اور نیا پاکستان“ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ملک میں کتاب پڑھنے اور لکھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے ایسے وقت میں عالیہ شاہ نے یہ کتاب تحریر کر کے کتب بینوں کے لئے امید پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جو تحریک چلائی وہ عام انسان کی آوازبنی اور ملکی آبادی کے 64فیصد پر مشتمل نوجوان نسل میں سوچ پیدا کی جو اس 22 سالہ انقلابی جدوجہد کی بنیاد بنی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی تحریک مڈل کلاس کےلئے تھی اور اس میں وہ کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن کے خاتمے، گورننس کی بہتری اور مڈل کلاس کے حقوق کی بات کی اور یہ وہ اہم نکات ہیںجن پر وہ کھڑے ہوئے اور آج بھی کھڑے ہیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے عام لوگوں میں شعوراجاگر ہوا اور حقوق کی فراہمی کی بات ہوئی، اس سے پہلے صرف دو سیاسی جماعتوں میں لوگ پھنسے ہوئے تھے‘ عمران خان آکر غریب عوام کی آواز بنے اور اسٹیٹس کو کو شکست دی اوراپنی سیاسی بصیرت سے دونوں جماعتوں میںسے ابھر کر سامنے آئے اوریہ صرف عمران خان کا معجزہ ہے کہ وہ ایک تیسرا بڑا لیڈر بن کر سامنے آیا ہے ۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ سیاست میں بھٹواورعمران خان کی تحریک نے کرداراداکیا‘ بھٹو صاحب کی تحریک 22 خاندانوں کے خلاف غریبوں نے برپا کی تھی، گذشتہ ادوار میں سب سے زیادہ مڈل کلاس اور نوجوان متاثر ہوئے، 1985ءکے بعد جو نظام رہا اس سے مڈل کلاس بہت متاثر ہوئی اور پی ٹی آئی نے نوجوانوں اور مڈل کلاس کے مسائل اجاگرکئے‘126 دن کے دھرنے نے نئے پاکستان کا پیغام دیا ،کوئی سیاسی نابالغ ہی کہے گا کہ دھرنے کا پاکستان کی سیاست پر منفی اثر ہوا، دھرنا پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا، ہمارے ملک کی کل آمدنی 5 ٹریلین ہے جس کا تیسرا حصہ صرف سود کی مد میں ادا کیا جا رہا تھا، ملک کو ایسے لوٹا گیا جیسے ڈاکو پیسے عیاشیوں پر لٹاتے ہیں، سابق حکمرانوں نے سرکاری پیسہ اڑایا، سندھ ترقیاتی بجٹ کے 2 ہزار ارب میں سے700 ارب زرداری اور اومنی گروپ نے ہڑپ کر لئے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے قرضوں نے ملک کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں ہم نے سب سے پہلے احتساب کا عمل شروع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایک خبر نظر سے گزری کہ 15مرغیاں چوری کرنے والا15سال سے جیل میں ہے، 300 ارب چوری کرنے والے باپ بیٹی کی ضمانت ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تحریک بدعنوانی کے خاتمے اور میرٹ کے فروغ پر مبنی تھی، نوازشریف اور زرداری جیسے نام نہاد سیاستدان قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں حکومت تبدیل ہوئی اور اگلے مرحلے میں نظام کو بدلیں گے۔ تقریب سے سینئر صحافی مظہر برلاس، صدر نیشنل پریس کلب شکیل قرار، نائب صدر نیشنل پریس کلب سعدیہ کمال، سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر و ممتاز شاعرہ ڈاکٹر صغریٰ صدف اور کینیڈا سے آئے مہمان ڈاکٹر مرتضیٰ نے بھی خطاب کیا اور مقررین نے عالیہ شاہ کو نئی تصنیف کی مبارکباد پیش کی اور کتاب کے اقتباسات اور مصنفہ کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ کتاب کی مصنفہ عالیہ شاہ نے کہا کہ نیا پاکستان کی تحریک صرف پاکستان تحریک انصاف کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں دھرنے سے لے کر پانامہ تک کے تمام حالات تحریر کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب حکومت کی حمایت میں نہیں بلکہ ہر اس شخص کےلئے ہے جو جدوجہد کرتا ہے امید ہے کہ حکومت جدوجہد کے ساتھیوں کو ہمیشہ ساتھ لیکر چلے گی۔








