اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ سارا پی ٹی وی ایک طرف ہے اور ایم ڈی پی ٹی وی ایک طرف ہیں،اس طرح معاملات کیسے چلیں گے،23 دن سے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز بند ہے ایم ڈی وہاں بھی نہیں جا سکتے ،ایم ڈی کا عہدہ ختم ہو چکا ہے نئے ایم ڈی کا اشتہار …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ سارا پی ٹی وی ایک طرف ہے اور ایم ڈی پی ٹی وی ایک طرف ہیں،اس طرح معاملات کیسے چلیں گے،23 دن سے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز بند ہے ایم ڈی وہاں بھی نہیں جا سکتے ،ایم ڈی کا عہدہ ختم ہو چکا ہے نئے ایم ڈی کا اشتہار بھی دیا جا چکا ہے،ایم ڈی پی ٹی وی کو ازخود استعفی دے دینا چاہیے ۔وہ پیر کو پیمرا ہیڈکوارٹر میں قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے چیئرمین اور اراکین کمیٹی کی کی جانب سے پی ٹی وی کے مظاہرین کو معاملے کی حل کی یقین دہانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔پیمرا ہیڈکوارٹر میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے اجلاس کے دوران پی ٹی وی ملازمین کی بڑی تعداد پیمرا ہیڈکوارٹر کے باہر جمع تھی اور ایم ڈی پی ٹی وی کے خلاف بھر پور اجتجاج کر تے رہے، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر ایم ڈی پی ٹی وی کو ہٹانے کے مطالبات درج تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سارا پی ٹی وی ایک طرف ہے اور ایم ڈی پی ٹی وی ایک طرف ہیں،سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے تمام اراکین نے ایم ڈی کو ہٹانے کا کہا ہے ،کمیٹی اپنی سفارشات وزیر اعظم کو دے گی۔انہوں نے کہا کہ ایم ڈی پی ٹی وی نے تبدیل ہونا ہی ہے،ایم ڈی پی ٹی وی نے معاملہ ہائی جیک کر رکھا ہے،ایک ایم ڈی نہیں ہے اس کے پیچھے اور بھی لوگ ہیں ۔وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے شاعرانہ انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ” ۔انہوں نے کہا کہ جب تک چیئرمین ہی نہیں ہوگا بورڈ آف ڈائریکٹرز کیسے کام کرے گا،جب چیئرمین ہوگا تو پھر بورڈ بھی مکمل ہوگا اور بورڈ کی کارروائی بھی قانونی حیثیت رکھے گی ،اس وقت تو بورڈ ہی نہیں ہے تو اس کی کارروائی کیسی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی انتظامیہ کمیٹی میں بھی نہیں آتی،اس طرح معاملات کیسے چلیں گے۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمی فیصل جاوید اجلاس کے بعد اراکین کمیٹی کے ہمراہ مظاہرین کے پاس گئے اور ان کے مطالبات سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور اجلاس میں بھی اس پر بات چیت ہوئی ہے ،وزیراطلاعات چوہدری فواد حسین نے بھی وزیراعظم کو پی ٹی وی کے ملازمین کے تحفظات کے حوال سے خط لکھا ہے ۔قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے رکن پیر صابر شاہ نے کہا کہ پی ٹی وی ملازمین کا احتجاج بالکل ٹھیک ہے ،حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی اس معاملے میں پی ٹی وی ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے، ملازمین کے تحفظات پر ایم ڈی پی ٹی وی کو عہدے سے ہٹانا چاہیے ۔کمیٹی کی رکن خوش بخت شجاعت نے مظاہرین سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کے ملازمین کا احتجاج ریکارڈ پر آچکا ہے ،اب یہ معاملہ حل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔کمیٹی کی رکن روبینہ خالد نے کہا کہ اپوزیشن اس معاملے پر پی ٹی وی ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے ،اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو پیپلز پارٹی پی ٹی وی ملازمین کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوگی ۔








