اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر درست قانونی فیصلہ دیا ہے ،اگر طبی بنیادوں پر ضمانت ہونی شروع ہوجائے تو ایمنسٹی سکیم بن جائے گی اور آدھی جیلیں خالی ہوجائیں گی ، کئی دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والے کہتے ہیں کہ …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کاپاکستان ہائوس کے زیراہتمام انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر درست قانونی فیصلہ دیا ہے ،اگر طبی بنیادوں پر ضمانت ہونی شروع ہوجائے تو ایمنسٹی سکیم بن جائے گی اور آدھی جیلیں خالی ہوجائیں گی ، کئی دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والے کہتے ہیں کہ ہمارے علاج پاکستان کی ہسپتالوں میں نہیں بلکہ بیرون ممالک سے کرایا جائے ،یہ صرف پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں ، عدالتی فیصلے کے بعد ڈیل یا ڈھیل کا اثر بھی زائل ہو گیا ہے ،میری وزارت کی تبدیلی کی خبروں سے سب سے زیادہ خوشی مسلم لیگ ن والوں کو ہے ،میں وزیر اطلاعات رہوں یا نہ رہوں لیکن میری رفتاراور احتساب کا عمل ایسے ہی جاری رہے گا ، مجھے جو عزت ملی ہے وہ وزیراعظم عمران خان کی وجہ سے ملی ہے ،وزیراعظم جیسے کہیں گے میں ویسا ہی کروں گا ، نیب قوانین میں ترمیم کا مقصد چوروں کو کلین چٹ دینا نہیں بلکہ نیب کو مزید فعال اور مستحکم بنانا ہے ،بھارت کو پیشکیش کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل ساتھ ایک قدم آگے بڑھائے پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا ،کشمیر بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی ہے اور نہ ہی بن سکتا ہے ،امت مسلمہ اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کب یو این او مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل کے لئے عملی قدم اٹھائے گا۔وہ پیر کو پاکستان ہاﺅس کے زیراہتمام انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے ہسپتال خورشید شاہ کے دوستوں اور امیروں کے لئے فائیو سٹار ہوٹل اور غریبوں کے لئے جہنم ہیں، سندھ کے شہری سرکاری ہسپتالوں میں جانے سے بہتر ہے کہ وہ گھر میں ہی ٹیکہ لگوا لیں ۔صدر آزادوجموں کشمیر مسعود خان ،ناروے کے سابق وزیر اعظم کیجل میگنی بونڈایوک ،آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوونیئر عبداللہ گیلانی ،حریت راہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک ،پاکستان ہاﺅس کے ڈی جی اطہر جاوید ،پاکستان ہاﺅس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) احسان الحق نے بھی خطاب کیا ۔بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر درست قانونی فیصلہ دیتے ہوئے نواز شریف کی درخواست مسترد کی ہے ، قانون کے مطابق ایسا ممکن ہی نہیں ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے شرجیل میمن کیس بھی اسی بنیاد پر مسترد کیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ دیگر کیسز کی طرح یہ کیس بھی ہماری حکومت نے نہیں بنایا، چیئرمین نیب کی قیادت میں نیب کرپشن کیسز کی تحقیقات کررہی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تو نیب میں چپڑاسی تک بھرتی نہیں کرایا ، موجودہ حکومت نے صرف نیب کوغیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے ماحول فراہم کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سابقہ چیئرمین نیب قمر الزمان چوہدری اور انکی ٹیم مسلم لیگ ن کا الائنس بنے رہے ،ن لیگ دور میں گورنر سٹیٹ بینک ،نیشنل بینک اور ایس ای سی پی کی قیادت منی لانڈرنگ میں شراکتدار تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کا بھی یہ ہی مطالبہ ہے کہ بڑے بڑے چوروں کو اندر جانا چاہیے ،آج کے احتساب کے عمل کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب کے سینئر وزیر کو نیب نے گرفتار کیا ،ہمیں تحفظات بھی تھے لیکن ہم نے ادارے کے خلاف بات نہیں کی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان جس کمٹمنٹ کے ساتھ حکومت میں آئے تھے اسی طرح آگے بڑھتے رہیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نعیم الحق کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات ہیں ، ان کا مکمل احترام کرتا ہوں ،صرف اصول کی بات کی ہے ، مشاہد اللہ اور مریم اورنگزیب جلتی پر تیل نہ ڈالیں ، آج میری تبدیلی کے حوالے سے جو باتیں چل رہی ہیں اس میں سب سے زیادہ خوشی مسلم لیگ ن کو ہو رہی ہے انھیں بتا دینا چاہتا ہوں میں وزیراطلاعات رہوں یا نہ رہوں میری رفتار اور احتساب کا عمل اسی طرح جاری رہے گا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کشمیریوں کو وہی حقوق دینے ہوں گے جو آزاد ریاست کو دیئے جاتے ہیں، پاکستان امن چاہتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور نہ کبھی ہو گا، ریاستی رٹ کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اپنے شہریوں پر گولی چلائی جائے، لوگوں کو طاقت کے زور پر نہیں دبایا جاسکتا، لہو بہنے سے آگ بڑھکتی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان بھارت کو بار بار مذاکرات کی پیش کش کرچکا ہے، ہم ایک بار پھر بھارت کو تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں، آئیں مل بیٹھیں، ہم اپنا موقف رکھیں گے اور آپ اپنا رکھیں۔ انہوں نے کہ دس کشمیریوں پر ایک سپاہی کھڑا کرکے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کیساتھ تین جنگیں لڑ چکے، چوتھی بھی لڑ سکتے ہیں تاہم ایک آپشن مذاکرات کا ہے، آئیں بیٹھیں آپ اپنا اور ہم اپنا مدعا سامنے رکھیں گے۔ فواد چودھری نے کہا کہ ریاست کی رٹ بربریت کا نام نہیں ہے، لوگوں کو گولیاں مار کر ریاست کی رٹ قائم نہیں کی جا سکتی،برہان وانی کی شہادت کے بعد حالات خراب ہوئے،بھارت حقائق کو چھپا نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلسل غربت بڑھ رہی ہے،اس پر توجہ دینی کی ضرورت ہے ۔








