وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا بحریہ یونیورسٹی میں انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج، 20کروڑ عوام اور میڈیا نے بھارتی جنگی جنون کو مسترد کر دیا ہے ،بھارت کے اندر سے آوازیں آنی شروع ہو گئی ہیں کہ سیاسی مقاصد کے لئے جنگ نہیں امن چاہتے ہیں ،و زیراعظم عمران خان کی مدبرانہ پالیسیوں اور دانشمندانہ سوچ کو آج پوری …

اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج، 20کروڑ عوام اور میڈیا نے بھارتی جنگی جنون کو مسترد کر دیا ہے ،بھارت کے اندر سے آوازیں آنی شروع ہو گئی ہیں کہ سیاسی مقاصد کے لئے جنگ نہیں امن چاہتے ہیں ،و زیراعظم عمران خان کی مدبرانہ پالیسیوں اور دانشمندانہ سوچ کو آج پوری دنیا سراہا رہی ہے ،پاکستان کے موقف کو پوری دنیا میں عزت افزائی مل رہی ہے ،اس سارے معاملے میں فتح امن کی ہی ہوگی یہ ہی سب کے حق میں ہے ، پاکستان نے جس طرح مسلح افواج ،سکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں سے دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں ایسے ہی انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں بھی کامیابیاں حاصل کی جائیں گی۔وہ بدھ کو بحریہ یونیورسٹی میں دو روزہ انٹر نیشنل کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ انتہا پسندی ایک عالمی چیلنج ہے ،تمام ممالک اور خطوں کو کسی نہ کسی صورت میں انتہا پسندی کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس ملک کے ہمسائے میں ہمارے ہمسائے جیسے ہوں وہاں پر ذمہ دارانہ اور مہذب معاشرے کی توقع نہیں رکھی جاسکتی کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ امن اور بات چیت کے لئے بات کی اور دوسری جانب سے جنگی جنون سامنے آتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم اور پاکستان کے وزیراعظم کی تقریروں کا موازنہ کرینگے تو فرق سامنے آجائے گا کہ کون امن چاہتا ہے اور کون جنگی جنون کا حامل ملک ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران بھی دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان پرامن ملک ہے اور امن چاہتا ہے ،پاکستان کی خطے میں امن و استحکام کے لئے بہت قربانیاں ہیں ،وزیراعظم عمران خان نے دوسرے ممالک کے سربراہان سے جب بھی بات کی اس میں مسائل پرامن طریقوں سے نمٹانے کی بات کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ تمام وجوہات کی منطقی سوچ کو پس پشت ڈال کر بھارت نے جو بزدلانہ کوشش کی اسے پاکستان نے نہ صرف ناکام بنایا بلکہ اس کا بھرپور جواب بھی دیا ہے ۔انھوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ امن کو موقع دینا چاہیے ،بحثیت قوم ہم بھی اس حق میں ہیں کہ امن کو موقع ملنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین صوفیا کرام کی زمین ہے جہاں پر صرف امن ،رواداری اور مساوات کی بات ہوتی ہے اس لئے یہاں پر انتہا پسندی نہیں تھی جب سے مذہب میں سیاست شامل ہوئی تو تشدد اور انتہاپسندی بھی شروع ہوگئی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذہب میں سیاست تشدد کی طرف لے جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 30سال ہم تنازعے میں رہے ،پاک افغان سرحد ،مشرقی سرحد پر چیلنجز درپیش رہے ،اگر پاکستان کی جگہ کوئی اور ملک ہوتا تو وہ اس طرح قائم و دائم نہ رہتا ، پاکستان نے خطے کے امن کے لئے 70ہزار جانوں کی قربانیاں دیں۔وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ قبائلی علاقوں بشمول وزیرستان کے عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر انھیں ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان علاقوں کے عوام نے اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بحران کی صورت میں قومی اتفاق رائے خوش آئند ہے ،قومیں اسی طرح مل کر آگے بڑھتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں تیزی اور اپ گریڈیشن ہورہی ہے اسی طرح میڈیا میں میڈیم کی بجائے مواد اہمیت اختیار کر رہا ہے ،اس وقت جو غیر رسمی میڈیا ہے آنے والے وقتوں میں یہ رسمی میڈیا کی صورت اختیار کر جائے گا ،جیسے جیسے انٹرنیٹ کی رفتار بڑھ رہی ہے ویسے ویسے غیر رسمی میڈیا بھی ترقی کر رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ الیکٹرانک میڈیا پر صرف کسی بھی خبر کی سمری ہوتی ہے لیکن تفصیل کے لئے پرنٹ میڈیا سے رجوع کیا جاتا ہے ۔

Leave a Reply