وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 3 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نوبل امن انعام کا طریقہ کار یہی ہے کہ رکن قومی اسمبلی اس کو تجویز کریں گے اور چونکہ نوبل امن انعام کے لیے نامزدگیاں ابھی جاری ہیں اس لیے میں نے وزیراعظم عمران خان کی امن کے لیے کی جانے والے کوششوں اور مثبت اقدامات کی بدولت انہیں نوبل …

اسلام آباد ۔ 3 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نوبل امن انعام کا طریقہ کار یہی ہے کہ رکن قومی اسمبلی اس کو تجویز کریں گے اور چونکہ نوبل امن انعام کے لیے نامزدگیاں ابھی جاری ہیں اس لیے میں نے وزیراعظم عمران خان کی امن کے لیے کی جانے والے کوششوں اور مثبت اقدامات کی بدولت انہیں نوبل امن انعام دینے کے لیے قرارداد جمع کرائی ہے اور میرے خیال میں وہی اس کے اصل حقدار بھی ہیں کیونکہ پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے وزیراعظم عمران خان کا کردار قابل ستائش ہے جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوبل امن انعام عمران خان یا کسی ایک مخصوص جماعت کا اعزاز نہیں ہو گا بلکہ پاکستان کا اعزاز ہو گا کیونکہ ہم نے قرارداد وزیراعظم پاکستان کے لیے جمع کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دسمبر ہی سے اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ بھارت کوئی ایڈونچر کرنے والا ہے جس کے بعد ہمارے وزیر خارجہ نے پی فائیو کے تمام سفیروں کو بلایا اور ان کے سامنے ساری صورتحال رکھی لیکن 12 فروری کو جب پلوامہ کا واقعہ ہوا تو ہمارے وزیراعظم عمران خان نے تو اسی وقت کہہ دیا تھا کہ ہم بھارت سے مکمل تعاون اور تحقیقات کے لیے تیار ہیں لیکن ہمیں کوئی ڈوزئیر نہیں دیا گیا بلکہ پاکستان پر حملہ کیا گیا جس کے بعد بھی وزیراعظم عمران خان اور ان کی قیادت میں پاکستانی اداروں نے جس تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا اسی کا نتیجہ ہے کہ خطے میں جنگ نہیں ہوئی ورنہ بھارت کے جارحانہ عزائم تو سب کے سامنے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں اپوزیشن نے بھی بہت اہم اور مثبت کردار ادا کیا اور قومی سلامتی اور وطن عزیز کے دفاع میں یکجہتی کا پیغام دیا جس پر وزیراعظم عمران خان نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت دنیا بھر میں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نوبل امن انعام کے حقدار ہیں اس لیے اپوزیشن کو چاہیئے کہ وہ بھی اس قرارداد کی حمایت کریں اور اس سلسلے میں آج سے اپوزیشن کے ساتھ باضابطہ طور پر رابطے بھی کیے جائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کم ہوتی نظر آ رہی ہے اور حالات روز بروز بہتر ہوتے جا رہے ہیں اور جنگ کے بادل اکفی حد تک کم ہو گئے ہیں، ویسے بھی بھارت میں اس وقت تقسیم ہے جبکہ پاکستان میں ہم سب متحد ہیں جو سب سے مثبت پوائنٹ ہے، اب سے 72 گھنٹے بعد حالات مذید بہتر ہو جائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ ویسے بھارت سے امن کی امید تو نہیں رکھنی چاہیئے کیونکہ بی جے پی گائو ماتا پر یقین رکھتی ہے، جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان پنجابیوں اور کشمیریوں کا ہوتا ہے اور بھارت میں پنجابیوں اور کشمیریوں کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے، بھارت کو دوسروں پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگانے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی و انتہا پسندی کی شدید مذمت کرتا ہے اور ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ نے شاید بھارت کی جانب سے اچھا جواب نہ ملنے کی وجہ سے اپنا دورہ موخر کیا ہے۔ چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کرپٹ عناصر کا بلاتفریق احتساب چاہتی ہے تاکہ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لائی جا سکے، حکومت احتساب پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور تمام کرپٹ عناصر کے احتساب کو بلاتفریق یقینی بنایا جائے گا۔

Leave a Reply