وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کا سینیٹ اجلاس میں بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کہا ہے کہ ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے حکومت کو سخت فیصلے کرنا پڑے ہیں، بجلی کے شعبے میں 229 ارب روپے اور گیس کے شعبے میں 109 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 70 فیصد کم ہوا ہے، کرنسی مضبوط ہو رہی ہے، مہنگائی 14.6 فیصد سے …

اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کہا ہے کہ ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے حکومت کو سخت فیصلے کرنا پڑے ہیں، بجلی کے شعبے میں 229 ارب روپے اور گیس کے شعبے میں 109 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 70 فیصد کم ہوا ہے، کرنسی مضبوط ہو رہی ہے، مہنگائی 14.6 فیصد سے کم ہو کر 12.4 فیصد پر آ گئی ہے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں بجلی اور گیس کی قلت، مہنگائی، بچوں کے خلاف جرائم، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور دیگر معاملات پر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی 14.6 فیصد سے کم ہو کر 12.4 فیصد پر آ گئی ہے، کھانے پینے کی اشیاءمیں کمی آئی ہے، نان فوڈ آئٹمز کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ تیل کی قیمت کم ہونے سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کے حوالے سے آنے والے اعداد و شمار تسلی بخش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے آخری ایک مہینے میں زرمبادلہ کے ذخائر آدھے رہ گئے، ہم آئے تو دو ہفتے کے ذخائر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ موڈیز نے ملک کی درجہ بندی کو کم کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 70 فیصد کم کیا ہے، کرنسی مضبوط ہو رہی ہے، برآمدات بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر تک کم ہو گئیں تھیں اور درآمدات میں 33 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں گردشی قرضہ 38 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھ رہا تھا، جن منصوبوں کے وہ فیتے کاٹ کر چلے گئے ان کے قرضوں کی ادائیگی بھی ہمیں کرنا پڑ رہی ہے، لاہور میں میٹرو ٹرین منصوبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، ایل این جی کی ڈیلز بھی ہمارے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہیں، بجلی کے معاہدوں کے کیپسٹی پیمنٹس ہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں جب تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل تک چلی گئی تھی تو اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس 56 فیصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی نعرے بازی سے ایوان کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے، ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے ہمیں سخت فیصلے کرنا پڑے، معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔

مزید خبریں