وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین خان گنڈاپورکی آزاد کشمیر کی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں کی دراندازی کی مذمت

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے آزاد کشمیر کی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں کی دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت خطہ میں جنگ کی فضاءکو ہوا دے رہا ہے جس کا پوری پاکستانی اور کشمیری قوم بھرپور جواب دے گی۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جس …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے آزاد کشمیر کی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں کی دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت خطہ میں جنگ کی فضاءکو ہوا دے رہا ہے جس کا پوری پاکستانی اور کشمیری قوم بھرپور جواب دے گی۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارتی طیاروں نے رات کے اندھیرے میں ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے یہ قدم بلاشبہ خطہ میں جنگی حالات پیدا کرنے اور جنوبی ایشیاءکے امن کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت اور مودی سرکار پر عائد ہو گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خطہ میں امن کے قیام کےلئے متعدد کوشش کر چکا ہے لیکن بھارت نے ہماری امن کی کوششوں کا جواب اس قابل مذمت جارحانہ عمل سے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے جارحانہ عمل کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ بھارت آزاد کشمیر کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد بھارتی عوام کو گمراہ کرنے کےلئے بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں بھارت آزاد کشمیر کی دراندازی کے بعد پاک فضائیہ کی جانب سے بروقت اور بھرپور کارروائی کے باعث اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج، فضائیہ اور بحری افواج پاکستان اور آزاد کشمیر کے دفاع کےلئے چوکس ہیں اور پاکستان اور آزاد کشمیر کا بچہ بچہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ اپنے مادر وطن کا ڈٹ کر دفاع کرے گا اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ وفاقی وزیر نے پلوامہ حملہ کے بعد پورے بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے کشمیری عوام اور مسلمانوں کے گھیراﺅ جلاﺅ اور استحصال کی بھی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ جس طرح کا ناروا سلوک بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد سیکولر ازم کا واویلا کرنے والے بھارت میں مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں کا جینا محال ہو چکا ہے اور ہندو انتہاءپسند انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے لے کر میزورام تک ظلم و تشدد اور استحصال کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت ہندو انتہاءپسند پالیسیز سے باز نہ آیا تو اس سے نہ صرف جنوبی ایشیاءکا امن تباہ ہو جائے گا بلکہ یہ پالیسیز خود بھارت کی تباہی کا بھی سبب بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری پر واضح کر دینا چاہتا ہے کہ وہ بھارت پر سفارتی لحاظ سے دباﺅ ڈالے کہ وہ جنوبی ایشیاءکے امن کو خطرے میں نہ ڈالے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ممالک ہیں اور کسی قسم کے نہ خوشگوار تصادم کے نتیجہ میں پوری دُنیا کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر بھارت ترقی وخوشحالی چاہتا ہے تو اس کو ہندو انتہاءپسند پالیسیز کو ترک کرکے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کےلئے بالآخر مذاکرات کا راستہ ہی اپنانا پڑے گا۔

Leave a Reply