وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب کا وفاقی وزراء وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کے ہمراہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو پچھلے دو سال میں توانائی اور دیگر شعبوں میں بھرپور کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لائن لاسز میں 1.4 فیصد کی کمی ہوئی ہے، 2030ءتک انرمکس کو تبدیل کر دیں گے، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے قابل تجدید توانائی، پن بجلی، تھر کول ، …

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو پچھلے دو سال میں توانائی اور دیگر شعبوں میں بھرپور کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لائن لاسز میں 1.4 فیصد کی کمی ہوئی ہے، 2030ءتک انرمکس کو تبدیل کر دیں گے، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے قابل تجدید توانائی، پن بجلی، تھر کول ، نیوکلیئر اور دیگر ملکی ذرائع سے 70 سے75 فیصد بجلی پیدا کریں گے، وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر کی کوشش سے پاکستان 2 ارب روپے کے جرمانے سے بچ گیا ہے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کوملکی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا، دیامر بھاشا، کروٹ، کوہالہ اور منڈا ڈیم جیسے بڑے منصوبوں سے 6500 سے 7000 میگاواٹ سستی بجلی حاصل ہو گی، ٹرانسمیشن لائنوں پر بھی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ، موجودہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں توڑ کر نئی کمپنیاں بنائیں گے، بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ایریل بنڈل کیبلز نصب کی جائیں گی، گردشی قرضے کا بہاﺅ روکیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز ،وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بجلی شہزاد قاسم کے ہمراہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے سلسلہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو آغاز میں مالیات اورتوانائی کے چیلنجز درپیش تھے۔ پچھلے 20، 30 سال میں ملک کا انرجی مکس سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تبدیل ہو گیا تھا اور 70 فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے بنائی جا رہی تھی ۔ ہم متبادل توانائی کے ذرائع پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ توانائی کے مقامی وسائل کو بروئے کا رلا رہے ہیں۔ متبادل توانائی کے ذرائع سے عوام کو سستی بجلی فراہم ہو گی اور 2030ءتک قابل تجدید توانائی ، پن بجلی ، تھر کول ، نیوکلیئر پراجیکٹس اور دیگر ملکی وسائل سے 70 سے 75 فیصد بجلی بنائیں گے۔ قابل تجدید توانائی پالیسی کی مشترکہ مفادات کونسل نے اتفاق رائے سے منظوری دے دی ہے ، اس سے بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی ہو گی۔ شمسی توانائی کا ٹیرف 13 سینٹ سے کم ہو کر 3.75 سینٹ پر آگیا ہے۔ اس سے بھی عوام کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سولر پینل اور ونڈ پلیٹس جیسے بنیادی آلات کی ہائی ٹیک انڈسٹری ملک میں لگائی جائے گی اور یہ آلات ہم وسط ایشیاءاور افریقہ کو بھی برآمد کریں گے۔ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ عمر ایوب نے کہا کہ کار کے پلانٹ کے حوالے سے 1.2 ارب ڈالر کا بین الاقوامی عدالت میں پاکستان کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور یہ تقریباً 200 ارب روپے بنتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی کوششوں سے پاکستان اس جرمانے سے بچ گیا ہے ۔ حکومت نے ٹھوس حکمت عملی سے کار کے کیس میں200 ارب روپے کے جرمانے سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد نئے معاہدے پر اتفاق ہوا ہے۔ یہ معاہدہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ سابقہ حکومتوں نے مہنگے معاہدے کئے تھے۔ آئی پی پیز کے مالکان اور فنی ماہرین کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے ہیں اس سے ملک کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ منڈا ڈیم، دیامر بھاشا ڈیم، کوہالہ پن بجلی منصوبے اور کروٹ پن بجلی منصوبوں سے مجموعی طورپر 6500 سے 7000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ سستی بجلی کے لئے پن بجلی کے متعدد منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ حکومتی کوششوں سے ہوا سے بجلی پید ا کرنے 800 میگاواٹ کے 15 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ 60 میگاواٹ کے بگاس کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو اس وقت صرف 2 ہفتے کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تھے اور بے تحاشا لوڈ شیدنگ تھی۔ لائنیں ٹرپ ہو رہی تھیں لیکن ہم نے ستمبر 2018ءسے لے کر اب تک 500 کے وی اور 200 کے وی لائنو ںکی رکاوٹیں دور کرکے سسٹم میں 4500 میگاواٹ اضافی بجلی شامل کی ہے۔ سردیوں میں بہت زیادہ ٹرپنگ ہوتی تھی اس کو بھی بہتر بنایا گیا اور پچھلے سال ایک بھی لائن ٹرپ نہیں ہوئی۔ مٹیاری لاہور ایچ وی ڈی سی اور کاسا 1000 پراجیکٹ پر بھی کام جاری ہے۔ گرڈ سٹیشنز کی استعداد بھی 7200 میگاواٹ تک بڑھایا گیا ہے جبکہ 2800 سے 3000 کلومیٹر نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے ۔ این ٹی ڈی سی کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے ۔پہلی بار آئندہ کے لئے بجلی کی ضرورت اور پیداوار کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ 2046ءتک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے لائن لاسز میں1.4 فیصد کمی آئی ہے۔ 8390 انجینئرز اور ملازمین کو مستقل کیاگیا ہے ۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں 10 ہزار نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ موجودہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو چھوڑ کر نئی کمپنیاں بھی بنائی جائیںگی۔ بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ایریل بنڈل کیبلز کی تنصیب ہو گی۔ نئی انڈسٹریل سٹیٹ بنائیں گے جن میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور ہمارا یہ ہدف ہے کہ گردشتی قرضے کا بہاﺅ بھی کم کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں عمر ایوب خان نے کہا کہ تیل نہ پیدا کرنے والے ممالک میں ایشیا میں پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت سب سے کم ہے۔ ہم نے ذخیرہ اندوزی کرنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرول پمپوں کیخلاف بھی کارروائی کی، اب سسٹم میں بھی تبدیلی لائی جا رہی ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں جو تیل ذخیرہ کرتی ہیں ان کے اعداد و شمار آن لائن اوگرا کے پاس آئیں گے، یہ ٹیکنالوجی اب لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے افراط زر اور تیل کے مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی، ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اب بہتری آئی ہے۔ آج سیمنٹ کمپنیاں بھی 70 سے 75 فیصد کی استعداد پر چل رہی ہیں اور کورونا کی وجہ سے پڑوسی ممالک کی جو صورتحال تھی پاکستان اس کے مقابلے میں بہت محفوظ رہا ہے اس میں وزیراعظم کی نیک نیتی شامل ہے اسی لئے ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں بجلی کی ترسیل کا نظام 18 ہزار 500 میگاواٹ تھا جبکہ اس وقت ہم 24 ہزار میگاواٹ بجلی کی سسٹم میں ترسیل کر رہے ہیں۔ ترسیل میں 4500 سے 5000 ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنوں کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں اور پشاور میں شیخ محمدی گرڈ پر بھی اسی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا ٹرانسمیشن لائنوں میں بہتری سے یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔

مزید خبریں