وفاقی وزیر برائے انسانی حقو ق ڈاکٹر شیریں مزاری کی دورہ برسلز کے دوران یورپی پارلیمنٹ کے صدر سمیت یورپین پارلیمان کے مختلف اراکین وفود سے ملاقاتیں

برسلز۔ 4 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقو ق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنا دورہ برسلز کے دوران جمعرات کو یورپی پارلیمنٹ کے صدر اینٹو نیو تاجانی سمیت یورپین پارلیمان کے مختلف اراکین، وفود سے ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کو دنیا بھر میں اجاگر کیا اور انکی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالی کی طرف دلائی۔ انہوں نے …

برسلز۔ 4 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقو ق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنا دورہ برسلز کے دوران جمعرات کو یورپی پارلیمنٹ کے صدر اینٹو نیو تاجانی سمیت یورپین پارلیمان کے مختلف اراکین، وفود سے ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کو دنیا بھر میں اجاگر کیا اور انکی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالی کی طرف دلائی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ وفاقی وزیر نے ملاقاتوں کے دوران پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے حکومت پاکستان کی ترجیحات اور وزارت انسانی حقوق کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کوبھی اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے یورپی پارلیمنٹ کے صدر اینٹویو تاجانی سے ملاقات کے دوران انکی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالی کی طرف دلائی اور اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے ملاقات کے دوران یورپ میں بڑھتے اسلامو فوبیا اور مسلمانو ں کو مذہبی آزادی میں حائل مختلف رکاوٹوں کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور کہا کہ یورپی یونین کو اس چیلنج سے نبر دآزما ہونے کے لیے فوری اور جامع حکمت عملی وضع کر نا ہو گی۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے یورپی پارلیمینٹ کے صدر اینٹویوتاجانی کو حکومتِ پاکستان اور وزارت انسانی حقوق کی پاکستان میں عورتوں، بچوں، اقلیتوں اور خواجہ سراو¿ں کے حقوق کے لیے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات اور اس ضمن میں کی جانی والی مختلف قوانین سازی سے بھی آگاہ کیا۔ یورپی پارلیمینٹ کے صدر اینٹویوتاجانی نے حکومت پاکستان اور وزارت انسانی حقو ق کی طرف سے اٹھائے جانے والے ٹھوس اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کاوشوں پر حکومت پاکستان کی تعریف کی اور انسانی حقوق کے فروغ اور معاشرتی و معاشی ترقی کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن اور قیادت کو سراہا۔ یورپی پارلیمینٹ کے صدر نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیاءمیں ایک خصوصی حثییت رکھتا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط اور دیر پا تعلقات قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات قائم کرنے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ دورے کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری نے بیلجیئم کے وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل براو¿نو وین ڈیر پیلجم، سے بھی ملاقات کی اور انہیں پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پاکستانی حکومت کی ترجیحات سے بھی تفصیلی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نہ صرف انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کوشاں ہے بلکہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بھی ہر ممکن اقدامات اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لامحدود قدرتی مناظر سے مالا مال ہے۔ انہوں نے بیلجین حکومت پر زور دیا کہ کہ وہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے بیلجین حکومت کی اپنے سیاحوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ پاکستان کے مختلف تفریحی اور سیاحتی مقامات کا دورہ کریں۔ سیکرٹری جنرل نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور سیاحت اورانسانی حقوق کے لیے حکومت پاکستان کی ترجیحات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے یورپی یونین میں ایشیا کے وفد کے چیئرمین جین لیمبرڈ سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ پاکستان تمام افراد، بالخصوص عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے نہایت سنجیدگی سے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں کی جانے والی قوانین سازی کے حوالے سے بھی وفد کے چیئرمین کو آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے یورپی یونین کے صدر اینٹویوتاجانی اور یورپی پارلیمینٹیز کے اعلی حکام سے ملاقوں کے بعد میڈیا کو تفصلی بریفنگ دی۔ انکا کہنا تھا کہ وزارت برائے ا نسانی حقوق نے قلیل عرصے میں تمام شہریوں خصوصا اقلیتوں، بچوں، عورتوں اور خواجہ سراو¿ں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نہایت سنجیدگی سے اقدات اٹھائے ہیں جو کہ ہماری حکومت کی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر پاکستانی کو بلاامتیاز ان کے حقوق کی رسائی ممکن بنا سکیں اور اس سلسلے میں ہمارے اہداف اور حکمت عملی واضح اور جامع ہے۔ وفاقی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور ظلم و ستم دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی برادری اور یورپی یونین کشمیریوں کو انکا حق خود اردیت دینے کے لیے اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس موقع پر یورپ میں اسلام دشمنی کے مختلف واقعات کا ذکر کیا اور یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر گہر ی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد ٹھوس حکمت عملی وضع کریں تاکہ اس چیلنج پر قابو پایا جا سکے۔

مزید خبریں

Leave a Reply