اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے قومی تعلیمی نظام میں سمندری آگاہی کو باقاعدہ طور پر شامل کرنے اور نوجوانوں کو پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں فعال شراکت دار بنانے پر زور دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر سمندری تعلیم، …
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کا قومی تعلیمی نظام میں سمندری آگاہی کو شامل کرنے ، نوجوانوں کو سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں فعال شراکت دار بنانے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے قومی تعلیمی نظام میں سمندری آگاہی کو باقاعدہ طور پر شامل کرنے اور نوجوانوں کو پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں فعال شراکت دار بنانے پر زور دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر سمندری تعلیم، آگاہی اور پائیدار سمندری نظم و نسق میں نوجوانوں کی شمولیت بڑھانے سے متعلق حکمتِ عملیوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزارت بحری امور کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر نے سمندری خواندگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سمندروں کی سمجھ بوجھ اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، پائیدار ترقی اور بحری وسائل کی طویل المدتی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔ تعلیم نوجوانوں کو سمندری تحفظ و بلیو اکانومی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔جنید انوار چوہدری نے سمندری تعلیم کو اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف 4.7 سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا، جس کے تحت پائیدار ترقی کے لیے تعلیم کو فروغ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نصاب اور اساتذہ کے تربیتی پروگراموں میں سمندری ماحولیاتی نظام، تحفظ اور انسان و سمندر کے باہمی تعلق سے متعلق علم کو شامل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اوشن لٹریسی فار آل‘‘ جیسے اقدامات قومی پالیسیوں، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی ورکشاپس میں سمندری موضوعات کو مرکزی دھارے میں لا کر سمندری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شہریوں کی آگاہی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے سمندری تعلیم کو پائیدار ترقی کے اہداف 14 (سمندری تحفظ)، 4 (معیاری تعلیم)، 13 (ماحولیاتی اقدام) اور 2 (پائیدار ماہی گیری) سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس کا مقصد آلودگی میں کمی، ماحولیاتی نظام کے بہتر انتظام اور وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے بحری تعلیم میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے کا درجہ دینے اور میری ٹائم ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے قیام سے آگاہ کیا، جس کے تحت ساحلی علاقوں کے مستحق بچوں کو وظائف فراہم کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اسکالرشپ پروگرام سندھ اور بلوچستان میں واقع 70 سے زائد ساحلی اور ماہی گیر برادریوں کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم تک رسائی دے کر جامع ترقی کو فروغ دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شفافیت، منصفانہ تقسیم اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی نگران کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جبکہ ابتدائی مرحلے میں فنڈ کا دائرہ ساحلی علاقوں تک محدود ہوگا جسے بعد ازاں قومی سطح پر توسیع دی جائے گی۔ملاقات میں سمندروں، ساحلی ماحولیاتی نظام اور بحری وسائل سے متعلق آگاہی بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں وزرا نے اس امر پر زور دیا کہ کلاس رومز سے لے کر کمیونٹی پروگراموں تک ماحولیاتی اور سمندری تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے سمندری درجۂ حرارت، ساحلی کٹاؤ، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور آلودگی جیسے خطرات سے نمٹا جا سکے۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سمندری خواندگی ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو ماہی گیری، مینگرووز اور پائیدار بحری طریقۂ کار سے آگاہ کر کے ایسی نسل تیار کی جا سکتی ہے جو سمندروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بلیو اکانومی کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھائے۔
وزیر مملکت وجیہہ قمر نے تعلیم کی تبدیلی لانے والی قوت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نصاب میں سمندری سائنس اور اوشن لٹریسی کی شمولیت طلبہ کو مقامی مسائل کو عالمی تناظر میں سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ملاقات میں پیچیدہ سمندری سائنسی معلومات کو عوام کے لیے قابلِ فہم بنانے کے لیے مسلسل اور حل پر مبنی آگاہی مہمات پر بھی غور کیا گیا۔
ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور حد سے زیادہ وسائل کے استعمال کے باعث ساحلی علاقوں کو درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر، دونوں وزرا نے رسمی و غیر رسمی تعلیم سیکھنے اور نوجوانوں کی قیادت میں آگاہی کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے ملک گیر پروگراموں کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ نصاب میں سمندری حیاتیاتی تنوع، ماہی گیری کے انتظام، ماحولیاتی تحفظ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور وسائل کے پائیدار استعمال سے متعلق ماڈیولز شامل کیے جائیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزارتِ بحری امور اور وزارتِ تعلیم کے باہمی تعاون سے سمندری جانکاری کے حوالے سے ایک ایسی باشعور نسل تیار کی جا سکتی ہے جو خطرات کو قوت میں بدل کر پاکستان کے ساحلی اور سمندری ماحولیاتی نظام کے طویل المدتی تحفظ کو یقینی بنائے۔








