وفاقی وزیر برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق سکندر حیات بوسن کا زرعی سائنسدانوں اور کسانوں سے خطاب

اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ شمسی توانائی سے حاصل شدہ نئی ٹیکنالوجی کو فصلوں کی بڑھوتی کےلئے استعمال میں لا کر بہترین نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں، پی اے آر سی کے زرعی سائنسدان ملک کو خوراک میں خود کفیل بنانے میں اپنا اہم کردارادا کر رہے ہیں، شمسی توانائی سے …

اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ شمسی توانائی سے حاصل شدہ نئی ٹیکنالوجی کو فصلوں کی بڑھوتی کےلئے استعمال میں لا کر بہترین نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں، پی اے آر سی کے زرعی سائنسدان ملک کو خوراک میں خود کفیل بنانے میں اپنا اہم کردارادا کر رہے ہیں، شمسی توانائی سے کھجور کو خشک کرنے کے طریقے کو اپنانے سے کھجور کی پیداوار میں بہترین اضافہ ہو سکتا ہے، زراعت کی پیداوار کے لحاظ سے صوبہ سندھ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شمسی توانائی سے کھجور خشک کرنے کے طریقے پر فیلڈ ڈے کے موقع پر خیرپور میں زرعی سائنسدانوں اور کسانوں سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں باغبانی کی ترقی و ترویج یہاں مستقبل میں محفوظ اور مضبوط معاشی ترقی کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ باغبانی کا شعبہ دیہی لوگوں کے روزگار کیلئے مرکزی اور قومی تحفظِ خوراک اور ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس شعبہ میں ترقی بنیادی طور پر روزگار اور دیہی علاقوں کے سماجی و معاشی استحکام کا ذریعہ بھی ہے۔ باغبانی کا شعبہ پاکستان معیشت میں 11.8 فیصد کا حصہ دارہے۔ باغبانی کے شعبہ میں کھجور سالانہ 6 لاکھ ٹن پیداوار کے ساتھ پاکستان کا تیسرا اہم پھل ہے۔ پاکستان کی 50 فیصد سے زائد کھجورسندھ میں کاشت کی جاتی ہے

مزید خبریں

Leave a Reply