وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان میں نمائندے نے ملاقات کی، جس میں ڈریپ کے لیے عالمی ادارہ صحت کے میچورٹی لیول 3 (ML-3) کے حصول اور صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے پاکستان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) کے نمائندے نے ملاقات کی جس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے لئے عالمی ادارہ صحت میچورٹی لیول 3 (ML-3) کے حصول کی پیشرفت اور صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات، ریگولیٹری نظام کی بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی قیادت اور عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے پاکستان کی پہلی قومی ویکسین پالیسی کی منظوری ملک کے صحت کے شعبے کے لئے ایک تاریخی اقدام ہے جو ویکسین سازی، ریگولیٹری صلاحیت اور عوامی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے لئے عالمی ادارہ صحت میچورٹی لیول 3 (ML-3) کے حصول کی کوششوں میں عالمی ادارہ صحت کی تکنیکی معاونت قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جائے گا ،جس میں ML-3 کے حصول کے لئے ہونے والی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور وفاق و صوبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔مصطفیٰ کمال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپریل 2027 تک عالمی ادارہ صحت میچورٹی لیول 3 (ML-3) کا درجہ حاصل کر لے گا جس سے ملک کی دواساز صنعت کو عالمی سطح پر مزید پذیرائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ML-3 کا حصول پاکستان کے لئے تقریباً 160 ممالک کی فارماسیوٹیکل منڈیوں تک رسائی کو آسان بنائے گا جس سے دواساز برآمدات میں اضافہ، عالمی مسابقتی صلاحیت میں بہتری اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔وفاقی وزیر صحت نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بین الاقوامی معیار کے مطابق ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانے، مقامی دواساز صنعت کی استعداد بڑھانے اور صحت کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لئے تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔








