اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ مون سون میں بھارت کی ریاست راجھستان سے ٹڈی دل واپس تھر اور چولستان کے علاقے میں داخل ہو گا، ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے انجینیر ان چیف، وزارت قومی غذائی تحفظ، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، …
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ مون سون میں بھارت کی ریاست راجھستان سے ٹڈی دل واپس تھر اور چولستان کے علاقے میں داخل ہو گا، ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے انجینیر ان چیف، وزارت قومی غذائی تحفظ، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، ہارن آف افریقہ میں ٹڈی دل نے کافی نقصان پہنچایا، بھارت کی 10 ریاستوں میں ٹڈی دل نے حملہ کیا، سستان بلوچستان (ایران) میں ٹڈی دل موجود ہے، بلوچستان میں جہاز کے ذریعے اسپرے کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر سید فخر امام نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ نسبتاً پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کل تک کم نقصان ہوا ہے۔سید فخر امام نے تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ 32 اضلاع کے متاثرہ علاقوں میں966 مشترکہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں،9.53کروڑ ایکڑ رقبہ پر سروے اور 22.92 ایکٹر رقبے پر کنٹرول آپریشن کیا جا چکا ہے۔سروے اور کنٹرول آپریشن میں 5082 سے زائد افراد اور 648 گاڑیوں نے حصہ لیا۔ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی اداروں سے بھی رابطے میں ہیں۔ٹڈی دل کو تلف کرنے کے لئے اپنی استعدادکار بڑھا رہے ہیں۔سید فخر امام نے کہا کہ پاک آرمی کے 5ہیلی کاپٹر استعمال ہو رہے ہیں۔5 جہاز کرائے پر لئے جائیں گے۔اس کے لئے 20 جہازاستعمال کئے جائیں گے۔سید فخر امام کا مزید کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے نے 11 جہازوں کے آرڈر دے دیئے ہیں۔مائکرون سپیرز بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ایک مقامی کمپنی نے مائکرون سپیرز سستی قیمت پر بنائے ہیں ۔سید فخر امام نے کہا کہ وزیر اعظم نے جنوری 2020 میں ٹڈی دل کے خلاف ایمرجنسی قرار دے دی۔اسکے بعد این ایل سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر سید فخر امام اور انجینیر ان چیف لیفٹننٹ جنرل معظم اعجاز کی زیر صدارت ہوا۔سیکرٹری قومی غذائی تحفظ عمر حمید خان نے بتایا کہ وزارت برائے قومی غذائی تحفظ وتحقیق انسداد ٹڈی دل کے لئے زیادہ سے زیادہ مالی اعانت فراہم کرنے میں مصروف ہے۔اس مقصد کے لئے ورلڈ بینک (ڈبلیو بی) نے 200 ملین ڈالر اور اے ڈی بی نے بھی 200 ملین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔لوکسٹ ایمرجنسی اینڈ فوڈ سیکورٹی(لیفس) پروجیکٹ کے تحت ورلڈ بینک کا وعدہ کی ہوئی مالی مدد پر غور کیا جائے گا۔پی سی ون بھی تیار ہوچکا ہے اور سی ڈی ڈبلیو پی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ لیفس پہلا وفاقی زرعی منصوبہ ہے جو پاکستان میں عالمی بینک کے ذریعہ مالی اعانت فراہم کرے گا۔وزارت برائے قومی غذائی تحفظ وتحقیق صوبائی حکومتوں، ڈی پی پی، این ایل سی سی، ایف اے او اور این ڈی ایم اے کے تعاون سے اس منصوبے کے مجموعی نفاذ کے ذمہ دار ہو گی۔ منصوبے کی لاگت 200 ملین امریکی ڈالر ہے۔ لیفس پروجیکٹ 4 اہم اجزاءپر مشتمل ہوگا، اولاً ٹڈی دل کی آبادی کی افزائش اور پھیلاو¿ کو محدود کرنے کے لئے نگرانی اور کنٹرول کے اقدامات جبکہ انسانی صحت اور ماحولیات کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہو گا۔ دوسرا جز مستحکم تحفظ اسکیم فراہم کرنا، معاش کا تحفظ اور بحالی ہے جو متاثرہ کسانوں اور مویشیوں کے مالکان کو فوری طور پر ریلیف کو یقینی بناتا ہے۔ تیسرا جز ٹڈی دل پر ابتدائی انتباہ دینے پر مشتمل ہے۔چوتھا جزو پراجیکٹ مینجمنٹ، اور نگرانی اور تشخیص ہے تاکہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کی اعلی معیار کے منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی صلاحیت کی تائید کی جاسکے۔ڈی جی محکمہ موسمیات نے مون سون کی صورتحال کے بارے میں بتایا۔بریفنگ کے دوران بلوچستان نے بتایا کہ صوبے کے 26 اضلاع پری میچور بالغ ٹڈیاں ہیں۔چاغی ، پنجگور اور گوادر میں ٹیموں کی تعیناتی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ایران سے ٹڈیوں کا خطرہ ہے۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نمائندے نے تجویزدیتے ہوئے کہا کہ ٹڈی دل کے اعداد وشمار کے لئے وفاقی سطح پر ڈیٹا بیس بنایا جائے۔ پنجاب کے نمائندے نے بتایا کہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چولستان اور راجن پور میں انسداد ٹڈی دل آپریشن کیا گیا۔پنجاب میں موضع سطح کی ٹڈیوں کے کنٹرول کمیٹی موجود ہیں۔بعد میں ڈاکٹر مبارک نے ایف اے او کی طرف سے ٹڈی دل کی تازہ ترین صورتحال بیان کی۔انہوں نے کہا کہ ہارن آف افریقہ سے ٹڈیوں کی نقل مکانی متوقع ہے۔ ڈاکٹر وسیم فوڈ سیکیورٹی کمشنر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انسداد ٹڈی دل کے لئے کمیونٹی کو بروئے کار لایا جائے۔ بعد میں جمع کی ہوئی ٹڈیوں کو بایو کمپوسٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔معیاری کھاد کو ٹڈی اور بائیو ویسٹ سے بنایا جائے گا۔اعلی قیمت / نامیاتی زرعی کھاد کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے مارکیٹنگ اور تقسیم کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا۔پائلٹ ٹیسٹنگ ٹڈی دل کی تولیدی مہینوں کے دوران چولستان اور تھر میں کی جائے گی۔کھائنے ، جالی ڈالنے ، ویکیوم کے استعمال میں کمیونٹیز کی استعداد کار کو بڑھایا جائے گا۔اگر اس منصوبے کے ذریعہ فصلوں کے 1% نقصان کو کنٹرول کیا جاتا ہے تو پھر 32 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔1 لاکھ ٹن ٹڈیوں میں سے ، 70,000 ٹن کھاد تیار کی جائے گی۔اس پروجیکٹ کے تحت ایک کنبہ ہر ماہ اوسطاً 6000 روپے کما سکتا ہے۔کمیونٹی کو ادائیگی مناسب طریقے سے کی جائے گی۔ منصوبہ منظوری کے مرحلے میں ہے۔
1818








