اسلام آباد۔9اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت مناسب قیمتوں پر کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے جو قومی غذائی تحفظ کا بنیادی ستون ہے، تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت کیجاتی ہے کہ باہمی رابطہ مضبوط بنائیں، سپلائی چین میں شفافیت کو فروغ دیں اور بروقت اقدامات کے ذریعے کسی بھی ممکنہ …
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی زیر صدارت کھاد جائزہ کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، یوریا اور دیگر اہم کھادوں کی طلب و رسد کی صورتحال کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت مناسب قیمتوں پر کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے جو قومی غذائی تحفظ کا بنیادی ستون ہے، تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت کیجاتی ہے کہ باہمی رابطہ مضبوط بنائیں، سپلائی چین میں شفافیت کو فروغ دیں اور بروقت اقدامات کے ذریعے کسی بھی ممکنہ قلت سے بچاؤ یقینی بنائیں۔ یہ بات انہوں نے کھاد جائزہ کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ جس میں ملک میں یوریا اور دیگر اہم کھادوں کی طلب و رسد کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں جاری ربیع سیزن، خریف 2026 کی تیاریوں اور ربیع27 ۔ 2026 کے لئے پیشگی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی و صوبائی اعلیٰ حکام کے علاوہ معروف کھاد ساز کمپنیوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ربیع سیزن کے دوران یوریا کی صورتحال مجموعی طور پر مستحکم اور بہتر طور پر منظم رہی۔ ابتدائی ذخیرہ تقریباً 11.5 لاکھ ٹن تھا جبکہ مقامی پیداوار تقریباً 32.32 لاکھ ٹن رہی جس کے نتیجے میں مجموعی دستیابی 43.8 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ کھپت 35.63 لاکھ ٹن رہی اور مارکیٹ میں گھبراہٹ پر مبنی خریداری دیکھنے میں نہیں آئی جو مؤثر سپلائی چین اور مارکیٹ کے استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔
اختتامی ذخیرہ تقریباً 8 لاکھ ٹن رہنے کا تخمینہ ہے جو آئندہ خریف سیزن کے لئے ابتدائی ذخیرہ ہوگا۔ تقریباً 5 لاکھ ٹن کا بفر سٹاک برقرار رکھا گیا تاہم دسمبر اور جنوری جیسے زیادہ طلب والے مہینوں میں اس کی افادیت کے حوالے سے کچھ خدشات کا اظہار کیا گیا۔ مزید برآں ایگری ٹیک کو گیس کی فراہمی میں مسائل کا سامنا رہا جس سے پیداوار متاثر ہوئی۔خریف 2026 کے حوالے سے اجلاس میں کھاد کی مجموعی دستیابی کا جائزہ لیا گیا اور سیزن کے دوران بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ اداروں اور صنعت کو ہدایت دی کہ وہ بروقت اور عملی اقدامات کے ذریعے پیداوار میں بہتری لائیں اور مارکیٹ میں مناسب دستیابی کو یقینی بنائیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ کھاد کے کارخانوں کی مسلسل اور بلا تعطل فعالیت، خصوصاً گیس کی مسلسل فراہمی کے ذریعے، مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اجلاس میں آئندہ ربیع27 ۔ 2026 سیزن کے لیے تفصیلی منظرنامہ سازی بھی کی گئی۔ مختلف پیداواری اور سپلائی صورتحال کا جائزہ لیا گیا خاص طور پر اہم پلانٹس کی آپریشنل حیثیت کے تناظر میں۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ خریف کے دوران کسی بھی تاخیر یا بندش کی صورت میں دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران بفر اسٹاک پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس کے برعکس اگر تمام پلانٹس بروقت اور مکمل طور پر فعال ہو جائیں تو دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وفاقی وزیر نے کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ ایک جامع اور حقیقت پسندانہ منصوبہ پیش کرے جس میں تمام پلانٹس کی بروقت فعالیت کو مدنظر رکھا جائے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ پورٹ قاسم پلانٹ چھ ماہ میں اضافی 2 سے 2.5 لاکھ ٹن پیداوار دے سکتا ہے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ خریف 2026 کے دوران بہتر زرعی حالات کے باعث یوریا کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے تاہم مغربی سرحد پر قیمتوں کے نمایاں فرق کے باعث اسمگلنگ کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
مقامی سطح پر ایک بوری کی قیمت تقریباً 4,500 روپے جبکہ بین الاقوامی سطح پر تقریباً 14,000 روپے ہے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت دی کہ غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام اور مقامی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے سخت نگرانی کی جائے۔کسانوں کی استطاعت بھی اجلاس میں ایک اہم موضوع رہی۔ بڑھتی ہوئی لاگت اور کم ہوتی قوتِ خرید کے باعث کسانوں کے لئے کھاد کا متوازن استعمال مشکل ہو سکتا ہے خصوصاً ڈی اے پی کے معاملے میں، جو زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ہدایت دی کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور متوازن کھاد کے استعمال کو یقینی بنانے کے لئے مربوط اقدامات کئے جائیں۔اجلاس میں یوریا کی قیمتوں اور مارکیٹ کے رجحانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مختلف برانڈز کے درمیان قیمتوں کے فرق پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جس سے مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ صنعت کے نمائندگان نے وضاحت کی کہ قیمتیں مارکیٹ کے مطابق طے ہوتی ہیں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات مخصوص ضروریات کے لئے ہوتی ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری نہیں ہونے دی جائے گی اور فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔ ڈی اے پی کھاد کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ خریف 2026 کے لئے درآمدات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جس کی وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور جہازوں کی دستیابی کے مسائل ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارتِ بحری امور سے رابطہ کیا گیا ہے اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ذریعے جہازوں کی دستیابی کو یقینی بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے قیمتوں کی سخت نگرانی پر زور دیا اور ہدایت دی کہ دستیابی کو یقینی بنانے اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں۔رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مناسب قیمتوں پر کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے جو قومی غذائی تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت دی کہ باہمی رابطہ مضبوط بنائیں، سپلائی چین میں شفافیت کو فروغ دیں اور بروقت اقدامات کے ذریعے کسی بھی ممکنہ قلت سے بچاؤ یقینی بنائیں۔








