وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ویٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملک میں گندم کی دستیابی، تقسیم کی حکمتِ عملی اور صوبوں کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی زیر صدارت ویٹ بورڈ کا اعلیٰ سطحی اجلاس، گندم کی تقسیم کی حکمتِ عملی کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ویٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملک میں گندم کی دستیابی، تقسیم کی حکمتِ عملی اور صوبوں کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سیکریٹری عامر علی احمد، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت، تمام صوبوں کے زراعت و خوراک کے سیکریٹریز، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندگان، وزارت کے سینئر حکام، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں پاسکو کے ذخائر سے صوبوں کی گندم کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبوں کی مجموعی طلب پاسکو کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے۔اس صورتحال کے پیشِ نظر، صوبوں سے مشاورت اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے عمل پر غور کیا جا رہا ہے۔ واضح کیا گیا کہ درآمد کی مجوزہ مقدار صوبوں کی جانب سے پیش کردہ ضروریات کی بنیاد پر طے کی گئی ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں گندم کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور قومی غذائی تحفظ کو مستحکم کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ درآمدی عمل کے دوران تمام صوبوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے گا، خصوصاً درآمد کی جانے والی گندم کے معیار اور تکنیکی خصوصیات کے حوالے سے۔انہوں نے مزید کہا کہ درآمد کی جانے والی گندم صوبوں میں ان کی ضروریات کے مطابق تقسیم کی جائے گی تاکہ شفافیت، انصاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت تمام وفاقی اکائیوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے گندم کی مستحکم فراہمی، صارفین کے مفادات کے تحفظ اور ملک بھر میں بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضروری انتظامات مؤثر انداز میں اور صوبوں کے ساتھ مکمل رابطے کے ذریعے جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔








