وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت روسی فیڈریشن کی وزارتِ اقتصادی ترقی کے نمائندے نکیتا بوزانوف کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان کے زرعی اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت روسی فیڈریشن کی وزارتِ اقتصادی ترقی کے نمائندے کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت روسی فیڈریشن کی وزارتِ اقتصادی ترقی کے نمائندے نکیتا بوزانوف کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان کے زرعی اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پاکستان اور روس کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی اور روس کی جانب سے پاکستان کی زرعی ترقی کے لئے تجارت، ٹیکنالوجی اور تکنیکی تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور غذائی تحفظ اور زرعی پیداوار سے براہِ راست منسلک شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید اور مؤثر زرعی مشینری تک رسائی زرعی پیداوار میں اضافے، پیداواری لاگت میں کمی اور پاکستان میں زرعی میکانائزیشن کے فروغ کے لئے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے روس کے ساتھ جدید زرعی مشینری اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی فراہمی کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے کسانوں کو معیاری کھاد اور زرعی ادویات کی بروقت اور مناسب قیمت پر فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں روس کے ساتھ تعاون زرعی پیداوار میں اضافے اور پاکستان کے غذائی تحفظ کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
رانا تنویر حسین نے لائیو سٹاک اور حیوانی صحت کے شعبوں بالخصوص بالخصوص معیاری ویکسین اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے حوالے سےباہمی تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیماریوں کی مؤثر روک تھام اور جانوروں کی صحت سے متعلق بہتر سہولیات لائیو سٹاک کی پیداوار بڑھانے اور کسانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے اہم ہیں۔وفاقی وزیر نے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں اور نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھانے پر زور دیا تاکہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں تعاون کو عملی منصوبوں اور باہمی مفاد پر مبنی تجارت میں تبدیل کیا جا سکے۔روسی فیڈریشن کی وزارتِ اقتصادی ترقی کے نمائندے نکیتا بوزانوف نے وفاقی وزیر کو پاکستان کے ساتھ زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے میں روس کی دلچسپی سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ روسی کمپنیاں اور ادارے پاکستان کو زرعی مشینری، کھاد، زرعی ادویات اور ویکسین فراہم کرنے کے امکانات تلاش کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے زرعی شعبے کی ضروریات کا جائزہ لینے اور زرعی مداخل، مشینری اور حیوانی صحت سے متعلق مصنوعات کے شعبوں میں قریبی تعاون کے لئے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کے لئے تیار ہے۔نکیتا بوزانوف نے زرعی شعبے سے متعلق مصنوعات کی دوطرفہ تجارت بڑھانے کے امکانات اور دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے روسی نمائندے کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعاون میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ شعبوں میں تعاون کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ پاکستان اور روس کے درمیان عملی اور نتیجہ خیز تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اجلاس میں دونوں جانب سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے اور تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، معیاری زرعی مداخل کی دستیابی بہتر بنانا اور پاکستان کے وسیع تر غذائی تحفظ کے اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرنا ہے۔







