وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں تھائی لینڈ کے سفیر کی ممتاز بدھ راہب کے ہمراہ ملاقات

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں تھائی لینڈ کے سفیر رونگ وُدھی ویرابوتر نے ممتاز بدھ راہب موسٹ وینیریبل انیل ساکیا کے ہمراہ جمعرات کو ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان میں موجود قیمتی بدھ تہذیب، آثار اور تاریخی ورثے کے تحفظ، ترویج اور مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے باہمی تعاون …

اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں تھائی لینڈ کے سفیر رونگ وُدھی ویرابوتر نے ممتاز بدھ راہب موسٹ وینیریبل انیل ساکیا کے ہمراہ جمعرات کو ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان میں موجود قیمتی بدھ تہذیب، آثار اور تاریخی ورثے کے تحفظ، ترویج اور مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر موسٹ وینیریبل انیل ساکیا نے کہا کہ پاکستان بدھ برادری کے لئے دوسرا گھر ہے کیونکہ اس سرزمین سے ان کے آبا ئو اجداد کی تہذیبی اور روحانی وابستگی جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے قدیم بدھ تہذیب کے تحفظ کے لئے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔انہوں نے قدیم گندھارا تہذیب میں ٹیکسلا کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر بدھ دور میں علم و دانش کا عظیم مرکز تھا جہاں خطے بھر سے لوگ آنے کی خواہش رکھتے تھے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے وفد کو بتایا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد گندھارا تہذیب اور اس سے متعلق نوادرات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ راہبوں اور ماہرین کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا کیونکہ یہ ورثہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔تھائی سفیر اور بدھ راہب نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت خصوصاً بدھ مت سے وابستہ سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جنہیں مؤثر حکمت عملی کے ذریعے فروغ دیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنے بدھ ورثے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ بدھ مت سے متعلق برآمد ہونے والے نوادرات کو اسلام آباد میوزیم میں محفوظ کیا جائے تاکہ انہیں مناسب انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ملاقات میں اسلام آباد میں بدھ تہذیب مرکز کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا جو تحقیق، تعلیم اور ثقافتی تبادلے کے لئے ایک اہم ادارہ ثابت ہوگا۔تھائی وفد نے ’’گندھارا ڈپلومیسی‘‘ کے تصور کی تجویز بھی پیش کی جس کے تحت گندھارا تہذیب کے نوادرات کو بدھ اکثریتی ممالک میں نمائش کے لئے پیش کیا جا سکے گا تاکہ ثقافتی روابط کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے بتایا کہ پاکستان کے مجموعی تاریخی ورثے کا صرف 25 فیصد حصہ اب تک دریافت کیا گیا ہے جبکہ ایک بڑا حصہ ابھی بھی زیرِ زمین موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید کھدائی اسی وقت ممکن ہوگی جب ان نوادرات کے لئے مناسب تحفظ اور نمائش کے مقامات دستیاب ہوں۔اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بدھ راہبوں اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی مشاورت سے ایک ماہرین کی ٹیم تشکیل دی جائے گی، جو اصل نوادرات کی شناخت اور ان کے تحفظ کے مؤثر طریقہ کار وضع کرے گی۔ملاقات کے اختتام پر پاکستان کے قیمتی بدھ ورثے کے تحفظ اور اسے عالمی سطح پر ثقافتی و روحانی روابط کے پل کے طور پر اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔