وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار کی سی پیک 9 ویں جے سی سی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و شماریات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ان قوتوں کو جواب دیا ہے جو کہہ رہی تھیں کہ سی پیک پر پیشرفت نہیں ہو رہی، سی پیک میں بہت وسعت آئی ہے، کاپر اور گولڈ سمیت معدنیات کے شعبہ میں تعاون پر بات چیت ہوئی ہے، پاکستان 4 ارب ڈالر کا سٹیل درآمد …

اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و شماریات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ان قوتوں کو جواب دیا ہے جو کہہ رہی تھیں کہ سی پیک پر پیشرفت نہیں ہو رہی، سی پیک میں بہت وسعت آئی ہے، کاپر اور گولڈ سمیت معدنیات کے شعبہ میں تعاون پر بات چیت ہوئی ہے، پاکستان 4 ارب ڈالر کا سٹیل درآمد کرتا ہے، پاکستان کا ریلوے نظام نیا ہونے جا رہا ہے، کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ 9ویں جے سی سی کے منٹس میں شامل کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سی پیک 9ویں جے سی سی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چینی سفیر یاﺅ جنگ اور چیئرمین این ڈی آر سی بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہا کہ 12 ارب ڈالرز کے منصوبوں پر اظہار اطمینان کیا گیا، 6390 میگا واٹ بجلی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، آئل ریفائنری منصوبے کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا، سٹیل سیکٹر کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری بڑھانے پر غور کیا گیا، ایم ایل ون منصوبے پر بڑی پیشرفت ہوئی ہے، اگلے 6 ماہ میں منصوبے کا افتتاح کرنے کی کوشش کریں گے، فنانسنگ کےلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ژوب ڈی آئی خان موٹروے منصوبے کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا، گوادر میں 300 میگاواٹ بجلی پاور پلانٹ کا افتتاح کیا گیا، چین اور پاکستان زرعی شعبہ میں تعاون کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان قوتوں کو جواب دیا ہے جو کہہ رہی تھیں کہ سی پیک پر پیشرفت نہیں ہو رہی، سی پیک کی رفتار کو تیز کر دیا گیا ہے، سی پیک جے سی سی اجلاس تاریخی نوعیت کا تھا۔ اجلاس میں 100 چینی وفود نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ کاپر اور گولڈ سمیت معدنیات کے شعبہ میں تعاون پر بات چیت ہوئی، پاکستان 4 ارب ڈالر کا سٹیل درآمد کرتا ہے، اس شعبہ میں خود کفالت کیلئے بات چیت میں پیشرفت ہوئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کرنسی کے استعمال کا جائزہ لیا جائے گا، اس معاملہ پر دونوں ممالک کے مرکزی بینک اور ماہرین تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر کی فینسنگ 2020ءتک مکمل کر لیں گے، پاک ایران بارڈر پر بھی فینسنگ کی جائے گی، یہ سیکیورٹی کے انتہائی اہم ترین معاہدے ہیں۔ خسرو بختیار نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ بھی ترجیح ہے، کے سی آر کو 9ویں جے سی سی کے منٹس میں شامل کیا گیا ہے، کراچی سرکلر ریلوے منصوبے پر بھی پیشرفت کریں گے، ایم ایل ون منصوبے سے ریلوے کا فرسودہ نظام نیا ہو جائے گا، 9 ارب ڈالر کا منصوبہ اگلے پانچ سال میں مکمل ہو گا، پاکستان کا ریلوے کا نظام نیا ہونے جا رہا ہے۔اجلاس میں سی پیک کے جاری اور نئے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔