اسلام آباد ۔ 8 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ شریف برادران کے ساتھ مل کر احسن اقبال اور جاوید صادق نے ملتان سے سکھر موٹروے منصوبہ میں 70 ارب روپے کی کرپشن کی، بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے احسن اقبال نے وزیر پلاننگ ہوتے ہوئے وزیراعظم کے متبادل کے طور پر دستخط کئے، جولائی 2013ءمیں چائنہ سٹیٹ …
وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ شریف برادران کے ساتھ مل کر احسن اقبال اور جاوید صادق نے ملتان سے سکھر موٹروے منصوبہ میں 70 ارب روپے کی کرپشن کی، بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے احسن اقبال نے وزیر پلاننگ ہوتے ہوئے وزیراعظم کے متبادل کے طور پر دستخط کئے، جولائی 2013ءمیں چائنہ سٹیٹ کمپنی کو ٹھیکہ دلانے کیلئے جاوید صادق نے ایجنٹ کے طور پر احسن اقبال کو کمپنی حکام سے ملوایا، کرپشن کے اس منصوبہ پر نیب نے کارروائی شروع کر دی ہے ،جو ثبوت درکار ہوئے وہ وزارت مواصلات اور این ایچ اے نیب کو فراہم کرے گی، گرفتاریوں کے ڈر سے احسن اقبال اور ان کے حواری ہر جگہ شور شرابا کرتے پھر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چین کی کنسٹرکشن کمپنی چائنہ سٹیٹ کو یہ ٹھیکہ دلوانے کیلئے جاوید صادق نے احسن اقبال کی ملاقاتیں کمپنی حکام سے کرائیں اور مفادات حاصل کئے، 70 ارب روپے کمیشن دلوانے پر وزیر پلاننگ اور شریف برادران نے بعد میں اس منصوبہ کے ٹھیکہ میں شراکت دار بناتے ہوئے جاوید صادق کو ڈائریکٹر بنوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران نے وزیراعظم ہاﺅس میں این ایچ اے حکام پر دباﺅ ڈال کر 259 ارب روپے کے منصوبہ کی لاگت کو بڑھایا اور یہ ٹھیکہ 292 ارب روپے میں مذکورہ کمپنی کو دےدیا۔ سپیشل آڈٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ چائنہ سٹیٹ کو یہ ٹھیکہ پہلے ایوارڈ کرتے ہوئے 2013ءمیں معاہدہ پر دستخط کئے گئے جبکہ اس کی بولی 2015ءمیں دی گئی، اس حد تک کرپشن کی گئی کہ ٹھیکہ لینے والی کمپنی کو ہی فزیبلٹی رپورٹ، کنسلٹنسی اور زمین کے حصول کے اختیارات دیئے گئے۔ مراد سعید نے کہا کہ احسن اقبال اور ان کی قیادت کرپشن میں اس قدر مہارت رکھتی ہے کہ اس منصوبہ کی قیمت کو پہلے 259 ارب سے بڑھا کر 292 ارب کیا گیا، پھر اس کو 406 ارب روپے تک پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے احسن اقبال این ایچ اے پر دباﺅ ڈالتے رہے کہ اس منصوبہ کو فوری طور پر شروع کیا جائے، اس مقصد کیلئے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف این ایچ اے حکام کو وزیراعظم ہاﺅس میں طلب کرتے اور اس منصوبہ کو مذکورہ کمپنی کو دینے کیلئے دباﺅ ڈالتے، وہیں اجلاس کئے جاتے اور منٹس لکھے جاتے، نواز شریف نے این ایچ اے کے بھاری ٹھیکوں میں کرپشن کیلئے وزارت مواصلات کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت میں آنے کے بعد وزارت مواصلات کا قلمدان سنبھالنے کے ساتھ ہی یہ اعلان کیا تھا کہ ہم 17 منصوبوں کا خصوصی آڈٹ کرائیں گے اور ان منصوبوں میں کرپشن کو بے نقاب کریں گے، لوٹ کھسوٹ کرنے والے لٹیروں کو جیلوں میں بھجوائیں گے، میرے قائد وزیراعظم عمران خان کا بھی قوم سے یہی وعدہ تھا، اس سلسلہ میں، میں جس منصوبہ کو آپ کے سامنے لے کر آیا ہوں یہ ان 17 منصوبوں میں کرپشن کی پہلی قسط ہے، آگے مزید کرپشن کے منصوبوں سے آپ لوگوں کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ثبوت ہیں، مجھے اسمبلی میں شہباز شریف نے کہا کہ میں نے اس کو نوٹس بھیج دیا ہے اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں، جب میں نے کہا کہ اگر اسمبلی میں بات کرنی ہے تو یہیں شروع کر لیتے ہیں لیکن شہباز شریف کرپشن پر بات کرنے کی بجائے لابی میں اٹھ کر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایک منصوبہ میں ہم نے 70 ارب روپے کی کرپشن کا سراغ لگایا، عوام کو دیکھنا ہو گا کہ یہ لوگ بڑے منصوبے کیوں شروع کرتے تھے اور کرپشن کے ذریعے قومی خزانہ کو کتنا نقصان پہنچا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی خزانہ کو 9 ارب روپے کی بچت کرکے دی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں بڑے بڑے منصوبوں کے فنڈز لاڑکانہ اور سکھر منتقل کئے گئے مگر ہم اس ساری کرپشن کو بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی وزارت میں 4329 ملین روپے کی ریکوری کی ہے جس سے قومی خزانہ کو خطیر بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ہم نے خزانہ کو 5209 ملین کا فائدہ پہنچایا ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ لاہور۔عبدالحکیم موٹروے کے بارے میں بھی بتایا جائے گا، ہم ان لوگوں کو ایف آئی اے کے ذریعے گرفتار کرنا چاہتے تھے مگر ملتان۔سکھر موٹروے اور لاہور۔عبدالحکیم موٹروے کے حوالہ سے نیب نے کیسز کھول دیئے ہیں لہٰذا نیب کو جو ثبوت درکار ہوں گے ہم فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ لوگ بھاری ٹھیکوں کے سلسلہ میں اس قدر ٹی اے، ڈی اے وصول کرتے کہ میری تنخواہ کو اگر 400 سے ضرب دی جائے تو اس کے برابر بنتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام سے وعدہ کیا کہ کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور میں نے اپنی وزارت میں کھلے عام شفاف طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے آئندہ ٹھیکوں کی بولیاں کرانے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ تین سال میں حکومت سے شاہراتی منصوبوں کیلئے فنڈز نہیں لیں گے بلکہ اتنا زیادہ ریونیو اکٹھا کرکے دیں گے کہ شاہرات بھی بنیں گی اور اضافی آمدن صحت و تعلیم پر خرچ کی جا سکے گی۔ علیم خان کی گرفتاری سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے، علیم خان کو نیب نے گرفتار کیا تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں کیوں نکالا، ہماری اور ان کی حکومت میں یہی فرق ہے کہ علیم خان احتساب کا سامنا کر رہے ہیں اور کوئی شور شرابہ نہیں ہے، یہی تبدیلی ہے اور انشاءاﷲ عوام کو جلد تحریک انصاف کی حکومت کے ثمرات ملیں گے، ہم ایسی پالیسیاں اختیار کر رہے ہیں کہ آنے والے ادوار میں کوئی قوم کا پیسہ نہ لوٹ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے اس لئے خسارے میں جاتے ہیں کہ وہاں سابق حکمران کرپشن کیلئے اپنے منظور نظر لوگوں کو تعینات کرتے اور پھر ان کے ذریعے پیسہ اکٹھا کرتے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹول پلازوں کے نظام کو ٹھیک کیا، موٹروے اور قومی شاہرات پر آرام گاہوں کے ٹھیکے شفاف انداز میں دیئے، نواز شریف کے دور میں ایک ریسٹ ایریا جو 10 لاکھ 70 ہزار میں دیا گیا، جب ہم نے اس کی بولی کرائی تو اسی ریسٹ ایریا سے 80 لاکھ روپے حاصل ہوئے یہ بھی کرپشن کا ایک لیول تھا، ہم عوام کی سہولت کیلئے آئے ہیں اور انشاءاﷲ ہم اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور یقیناً یہ ملک ٹھیک ہو گا۔








