وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی ترکیہ کی نائب وزیر برائے ماحولیات سے ملاقات،کوپ 31 کے حوالے سے مشترکہ وژن اور ترجیحات پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی ترکیہ کی نائب وزیر برائے ماحولیات سے ملاقات،کوپ 31 کے حوالے سے مشترکہ وژن اور ترجیحات پر تبادلہ خیال

شاماخی، آذربائیجان۔23جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے ترکیہ کی نائب وزیر برائے ماحولیات، شہری آبادکاری و موسمیاتی تبدیلی اور آئندہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کوپ 31) کی صدر فاطمہ ورنک سے ملاقات کی، جس میں کانفرنس کے حوالے سے مشترکہ وژن اور ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس کی میزبانی رواں سال ترکیہ کرے گا۔

ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق کوپ 31 ہیڈز آف ڈیلیگیشنز ریٹریٹ کے موقع پر دونوں ممالک نے کانفرنس سے قبل مشترکہ پروگرامز شروع کرنے پر اتفاق کیا، جن میں بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں، بجلی کے استعمال کے فروغ، توانائی کی کارکردگی میں بہتری اور ری سائیکلنگ کی صنعت کے استحکام پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے ترک وفد کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے زیرِ غور دو اہم اقدامات، گرین فیلڈپروگرام اور گرین یونیورسٹی کے بارے میں بریفنگ دی۔

گرین فیلڈ پروگرام کا مقصد گرین اسٹارٹ اَپس کے انقلاب کو فروغ دینا اور نوجوان کاروباری افراد کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جدید اور پائیدار حل تیار کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے، جبکہ گرین یونیورسٹی کو عالمی سطح پر تحقیق، طلبہ اور فیکلٹی کے تبادلے کا ایک پلیٹ فارم بنانے کی تجویز ہے، جس کے ذریعے تجارتی طور پر قابلِ عمل تحقیق اور جدت کو فروغ دیا جا سکے گا۔

دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کوپ 31 کے موقع پر ان اقدامات کے حوالے سے اہم اعلانات کیے جائیں گے اور ان شعبوں میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مزید قریبی تعاون کے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے صدرِ جمہوریہ ترکیہ اور خاتونِ اول کے لیے نیک خواہشات اور گرمجوش سلام بھی پیش کیا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور مؤثر موسمیاتی اقدامات کے فروغ کے لیے خاتونِ اول کی خصوصی دلچسپی اور قیادت کو سراہا۔

ڈاکٹر مصدق ملک اور فاطمہ ورنک نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عملی، جدید اور قابلِ توسیع موسمیاتی حل کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت پر اتفاق کیا۔