وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر مبنی ماحول دوست جدت کے فروغ پر زور

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نےموسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر مبنی ماحول دوست جدت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو نوجوان سائنسدانوں اور کاروباری افراد کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجیز تیار کر سکیں۔

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نےموسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر مبنی ماحول دوست جدت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو نوجوان سائنسدانوں اور کاروباری افراد کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجیز تیار کر سکیں۔منگل کو گرین سکلز ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو اقدام کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتےہوئےوفاقی وزیر نے کہا کہ مسلسل سائنسی تحقیق، مالی معاونت اور عملی تجربات کے مواقع کے بغیر مختصر ورکشاپس اور روایتی تربیتی پروگرام بامعنی جدت پیدا نہیں کر سکتے۔

انہوں نے پاکستانی جامعات کو بین الاقوامی سطح کے ممتاز تعلیمی و تحقیقی اداروں سے منسلک کرنے کے لیے گرین یونیورسٹی کا فریم ورک متعارف کرانے کی تجویز پیش کی جس کے تحت سائنس وٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور منظم تعلیمی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مجوزہ فریم ورک کے تحت پاکستانی طلبہ کو واضح تعلیمی اہداف اور مخصوص تحقیقی فنڈنگ کے ساتھ ڈگری پروگراموں میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے گاجبکہ بین الاقوامی ماہرین طلبہ کی رہنمائی کریں گے اور انہیں سائنسی تحقیق میں معاونت فراہم کریں گے۔انہوں نے گلیشیئرز پر تحقیق کو بین الاقوامی تعاون کے لیے ایک اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی کےمحققین گلیشیئرز اور ان سے متعلق موسمیاتی خطرات کا مطالعہ کرنے کے لیے آرکٹک خطے کے ممتاز تحقیقی اداروں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے نوجوان جدت کاروں کی معاونت کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے مجوزہ فنڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو اپنے نئے خیالات پر کام کرنے، انہیں ترقی دینے اور عملی طور پر آزمانے کے لیے مالی وسائل اور آزادی فراہم کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کووسائل فراہم کرکے ان کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں دور کی جائیں تاکہ وہ سائنسی علم کو عملی حل میں تبدیل کر سکیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو سموگ، پینے کے غیر محفوظ پانی اور موسمیاتی تبدیلی کےباعث پیدا ہونے والی آفات سمیت متعدد ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجیز کی تیاری ناگزیر ہے۔انہوں نےفضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جدت کے ذریعے ہوا کےمعیار کو بہتر بنانے اور عوام کو سموگ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد ملنی چاہیے۔انہوں نے نلکوں سے فراہم کیے جانے والے پانی کے محفوظ ہونے کے حوالے سے عوامی خدشات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ بنیادی ماحولیاتی سہولیات پر اعتماد کا فقدان ان مسائل کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے جن کے حل کے لیے سائنسی تحقیق ضروری ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے بجلی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے الیکٹریفکیشن، بیٹری ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو جدت کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں جو بجلی کے گرڈ نظام کو بہتر بنا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جامعات میں باصلاحیت گریجویٹس موجود ہیں جن کی صلاحیتوں سے بہتر استفادہ اس وقت ممکن ہے جب انہیں تحقیقی سہولیات، مالی معاونت اور بین الاقوامی سائنسی مہارت تک رسائی فراہم کی جائے۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدت کا انحصار مسائل کےحل کی ضرورت کی شدت اورتحقیقی و تکنیکی ترقی کے ذریعے ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اداروں کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرین سکلز کو عملی جدت اور کاروباری سرگرمیوں سے منسلک کرناضروری ہے تاکہ نوجوان گرین اکانومی کی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے جامعات اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ورکشاپس اور تربیتی سرگرمیوں کی تعداد گننے کی بجائے قابلِ پیمائش تحقیقی نتائج پر توجہ دیں جن میں سائنسی تحقیقی مقالے اورحقیقی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجیز کی تیاری شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ترقی کی سمت میں وسیع تبدیلی لانے کی کوششوں کے تحت گرین سائنس، جدت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

 

مزید خبریں