وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین سے برازیل کے سفیر اولینتھو ویرا کی ملاقات، لائیو سٹاک، ڈیری، میٹ پروسیسنگ اور ایگری فوڈ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ برازیل بین الاقوامی سطح پر لائیو سٹاک کی پیداوار، گوشت کی پروسیسنگ، ڈیری ڈویلپمنٹ اور زرعی خوراک کی برآمدات میں ایک عالمی رہنما کے طور جانا جاتا ہے، برازیل کے پاس دنیا کا سب سے بڑا تجارتی مویشیوں کا ریوڑ ہے جس کی تعداد 230 ملین سے زیادہ ہے، گائے کے …

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ برازیل بین الاقوامی سطح پر لائیو سٹاک کی پیداوار، گوشت کی پروسیسنگ، ڈیری ڈویلپمنٹ اور زرعی خوراک کی برآمدات میں ایک عالمی رہنما کے طور جانا جاتا ہے، برازیل کے پاس دنیا کا سب سے بڑا تجارتی مویشیوں کا ریوڑ ہے جس کی تعداد 230 ملین سے زیادہ ہے، گائے کے گوشت اور پولٹری کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، 2024ء میں برازیل کی گائے کے گوشت کی برآمدات تقریباً 2.9 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی جن کی مالیت 12 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاکستان میں برازیل کے سفیر اولینتھو ویرا کے ساتھ ملاقات میں کیا۔ ملاقات میں لائیو سٹاک، ڈیری، میٹ پروسیسنگ اور ایگری فوڈ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان میں 55 ملین سے زیادہ مویشی اور 47 ملین بھینسیں موجود ہیں تاہم زیادہ پیداواری لاگت، محدود فیڈ لاٹ ،فنشنگ سسٹم، مذبح خانے کے ڈیزائن، گوشت کی جانچ، ایس پی ایس، ٹریس کمپلائنس میں فرق کی وجہ سے برآمدات محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک مسلم ملک ہونے کے باوجود عالمی حلال گوشت کی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ کم سے کم ہے جبکہ برازیل ادارہ جاتی کارکردگی، کوالٹی ایشورنس اور ویلیو ایڈیشن کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہوئے مسلم ممالک کی ایک وسیع رینج کو حلال گوشت برآمد کرتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ برازیل دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے جس کی سالانہ پیداوار 35 ارب لیٹر سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ڈیری سیکٹر کو بہتر جینیات، فیڈنگ سسٹم، دودھ کوالٹی کنٹرول اور پروسیسنگ انفراسٹرکچر کے ذریعے جدید بنانا چاہتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان برازیل سے سویابین، کپاس اور چینی درآمد کرتا ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ 1952ء میں برازیل نے پاکستانی مویشیوں کی بہترین صحت اور گوشت کے معیار کی وجہ سے پاکستان سے مویشی درآمد کیے تھے جبکہ حالیہ برسوں میں پاکستانی کاروباری اداروں نے برازیل سے ایلیٹ مویشی کی نسلیں درآمد کی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک منظم حکومت سے حکومت کا فریم ورک تکنیکی معیار کی رکاوٹوں کو دور کرنے، پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور پاکستان کے لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبوں میں مسابقت کو بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا کہ وزیر اعظم نے مویشیوں کو فربہ کرنے، دودھ کی پیداوار، گوشت کی پیداوار اور پروسیسنگ کو لائیو سٹاک کی ترقی کے لیے ترجیحی شعبوں کے طور پر شناخت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان برازیل کے ساتھ جامع تعاون میں شامل ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جس میں ماہرین کے تبادلے، تربیتی پروگرام، ادارہ جاتی تعاون اور باہمی مطالعاتی دورے شامل ہیں اور برازیل کی مہارت سے مستفید ہونے کے لیے پاکستانی پیشہ ور افراد کو برازیل بھیجنے کے لیے بھی اتنا ہی تیار ہے۔

برازیل کے سفیر نے برازیل کے زرعی تبدیلی کے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ 1970ء میں برازیل اپنی غذائی ضروریات کا تقریباً 40 فیصد درآمد کر رہا تھا جس کے بعد تحقیق، ادارہ جاتی صلاحیت اور صنعتی روابط میں مسلسل سرمایہ کاری نے اس شعبے کو تبدیل کر دیا۔ نتیجے کے طور پر برازیل آج اپنی آبادی کے لیے کافی خوراک پیدا کرتا ہے اور عالمی سطح پر زرعی اور مویشیوں کی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔

انہوں نے برازیل کی جانب سے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مل کر منظم تعاون اور کام کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے وفاقی وزیر نے لائیو سٹاک اور ڈیری پر پاکستان-برازیل کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز پیش کی۔

مزید خبریں