وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ شہزادہ محبوب سلطان سے ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست کی ملاقات

اسلام آباد ۔ 28 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ شہزادہ محبوب سلطان سے ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے ملاقات کی۔ جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران باہمی تعلقات کے فروغ سمیت زراعت کے شعبہ میں تجارت پر بات چیت کی گئی۔ دونوں ممالک مشترکہ جغرافیائی حدود رکھتے ہیں جو زرعی پیداوار کی تجارت میں سہولت فراہم کرتی ہیں، دونوں ممالک …

اسلام آباد ۔ 28 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ شہزادہ محبوب سلطان سے ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے ملاقات کی۔ جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران باہمی تعلقات کے فروغ سمیت زراعت کے شعبہ میں تجارت پر بات چیت کی گئی۔ دونوں ممالک مشترکہ جغرافیائی حدود رکھتے ہیں جو زرعی پیداوار کی تجارت میں سہولت فراہم کرتی ہیں، دونوں ممالک میں زرعی اشیاءکی برآمدات/درآمدات میں کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک میں 2005ءمیں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس میں ایک ایس پی ایس سرٹیفکیٹ جاری ہوا جس کے تحت پاکستان آم اور سٹرس ایران کو برآمد کرے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری ایک طویل حدود میں شراکت ہے اور ہمیں اس طویل حد سے فوائد کے مواقع ضائع نہیں کرنے چاہئیں۔ سفیر نے وزیر کو آگاہ کیا کہ ایران کو لائیو سٹاک اور گوشت کی بڑی مقدار لاطینی امریکا اور برازیل سے درآمد کرنا پڑتی ہے اور یہ بہت مہنگی پڑتی ہے جبکہ ایران اس شعبہ میں پاکستان سے درآمد کرنے کا خواہاں ہے۔ وفاقی وزیر نے سفیر کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں گوشت کے پروسیسنگ کےلئے کراچی میں ایک پلانٹ لگایا گیا ہے جو ایران کی ضروریات کے مطابق گوشت درآمد کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور خوش قسمتی سے دنیا کے کسی بھی ملک میں گوشت درآمد کرنے کےلئے پوری طرح سازوسامان سے آراستہ ہے۔ انہوں نے ایرانی ٹیم کو کراچی کے پلانٹ کے دورے کی دعوت دی۔ ملاقات میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ تفتان کی سرحد پر تازہ گوشت بھیجنے کےلئے ایک ذبحہ خانہ شروع کیا جائے گا، پنجاب زرعی و گوشت کمپنی میں 15 سے 16 فیصد ایران کا اشتراک ہے اور فی الحال ایران کوکوئی درآمدی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان سے گوشت کی درآمد کے ہر فورم پر بات چیت کےلئے تیار ہے۔ وفاقی وزیر نے اس سلسلہ میں سفیر کو پنجاب کے وزیر زراعت سے تفصیلی ملاقات کی تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر نے سفیر کو آگاہ کیا کہ پاکستانی آم پوری دنیا کے مختلف درآمدی ممالک میں تسلی بخش حد تک درآمد کئے جاتے ہیں، آم کے پودوں کےلئے گرم پانی ٹریٹمنٹ پر ایرانی تحفظات کو دور کیا جا سکتا ہے اور متعلقہ ایرانی حکام/ماہرین کو ان پودوں کےلئے دورہ کرنا چاہئے تاکہ وہ ان کی بین الاقوامی معیار کی درآمد کا جائزہ لیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے پاس 40 سے زائد واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس ہیں جہاں سے آسٹریلیا کو پھل درآمد کئے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے سینٹری اور فائیٹو سینٹر سے متعلق مسائل کے باہمی حل پر تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کو مل کر نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشنز کے تعاون اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ اور تجارت کے حجم کو بڑھانے کےلئے زور دیا۔ وفاقی وزیر نے سفیر کو بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ گزشتہ 3 سے 4 سال کی رکی ہوئی ٹرانزٹ پرمٹس کو دوبارہ شروع کرے گا جس میں پاکستانی اشیاءچارہ، گندم کا بھوسہ، گاجر اور لہسن شامل ہیں جو ایران کے ذریعہ روس، کرغزستان، عراق، بحرین، عمان اور متحدہ عرب امارات کو درآمد کی جاتی تھیں۔ یہ اشیاءبلوچستان کے چھوٹے زمینی راستے سے بعذریعہ ایران درآمد ہوتی تھیں او ر ٹرانزٹ پرمٹس نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ ایک طویل اور مہنگے، راستے سے درآمد ہوتی ہے جس سے درآمدات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ایرانی سفیر نے متعلقہ تشویش کے شعبہ پر غور کرنے اور آگاہ کرنے کےلئے کہا اور یہ بھی کہا کہ ”پاکستان کےلئے ایران کے تمام دروازے کھلے ہیں“۔ انہوں نے اوورسیز فارمنگ کی خواہش کا اظہار کیا جس پر وفاقی وزیر نے غور کرنے اور ایرانی حکومت کو آگاہ کرنے کے بارے میں کہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم تجارت اور کاروبار جیسے مستحکم ذرائع سے دوطرفہ باہمی تعلقات کو فروغ دیں گے جس سے دونوں ممالک کی حدود میں حوصلہ شکنی ہو گی اور فوائد حاصل ہوں گے، دونوں جانب سے مسائل کے حل اور بہترین ہم آہنگی کےلئے وفود کے تبادلہ کے فروغ پر اظہار خیال کیا گیا۔

Leave a Reply