اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ صحافت غلط معلومات کی فراہمی سے گریز اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کا نام ہے۔ وہ منگل کو بحریہ یونیورسٹی میں وزارت اطلاعات و نشریات اور پیس کولیکٹو کے زیر اہتمام میڈیا اور تنازعات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کانفرنس کے …
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمودکا میڈیا اور تنازعات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ صحافت غلط معلومات کی فراہمی سے گریز اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کا نام ہے۔ وہ منگل کو بحریہ یونیورسٹی میں وزارت اطلاعات و نشریات اور پیس کولیکٹو کے زیر اہتمام میڈیا اور تنازعات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کنفلیکٹ زون میں رپورٹنگ کیسے کی جائے اور حقائق کو کس طرح بیان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحافی حقائق اور اعداد و شمار جمع کرکے لوگوں کو خود فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرے کہ وہ کسے صحیح اور غلط سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے شعبہ ذرائع ابلاغ میں زیر تعلیم طالب علموں کو جلد ہی میڈیا میں خدمات سرانجام دینی ہیں اس لئے انہیں حقیقی حقائق اور اعداد و شمار سے معلومات رکھنی چاہئیں۔ بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر وائس ایڈمرل (ر) محمد شفیق نے افتتاحی سیشن میں کانفرنس کے شرکاءکا خیرمقدم کیا اور یونیورسٹی کے میڈیا سٹڈی پروگرام کے نمایاں نکات پر روشنی ڈالی۔ پاکستان پیس کولیکٹو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شبیر انور نے کانفرنس کے اہداف پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد تنظیم کی جانب سے پہلے سے کئے جانے والے اقدامات کا حصہ ہے جو کہ امن کے قیام اور زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل کرنے کیلئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کی رپوٹنگ میں میڈیا کا کردار اہم ہوتا ہے لہٰذا ہمیشہ تنازعات کی رپورٹنگ کو معیاری اور پیشہ وارانہ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیس کولیکٹو پیس ملک بھر میں امن کے مطالعہ پر ایک مربوط نصاب متعارف کرانے کیلئے کام کر رہا ہے۔ کانفرنس میں عالمی ماہرین بانی امن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ناروے کے ڈاکٹر جانان گیلٹونگ، اوسلو میٹروپولیٹن یونیورسٹی ناروے ڈاکٹر رونٹ اوٹونن، اوسلو میٹروپولیٹن یونیورسٹی ناروے ڈاکٹر ایلزبتھ ایڈ، یونیورسٹی سڈنی آسٹریلیا ڈاکٹر جیک لنچ،سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز اور دیگر اکیڈمیک اور میڈیا ممران نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکاءنے پیس جرنلز: گلوبل چیلنجز اور تناظر کے ایجنڈا پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ تنازعات اور ذرائع ابلاغ پر مبنی ریاستی فلسفہ کے بارے میں ایک پینل بحث کے دوران سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ میڈیا کی ذمہ داری حقائق کی رپورٹ کرنا اور مسائل کے تمام پہلوﺅں کو نمایاں کرنے کےلئے تمام پارٹیوں کو کوریج دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفاد کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ عوام کی مفاد میں نہیں ہوتی اور یہ بات عوام کے مفاد میں ہے کہ جنگ سے بچا جائے۔ سینئر صحافی مبشر زیدی نے کہا کہ میڈیا اور نوجوانوں کے درمیان عدم رابطہ کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا نے نوجوانوں کو متوجہ کرنے کےلئے کچھ نہیں کیا۔ اس موقع پر سینئر صحافی فہد حسین نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانفرنس کا انعقاد حکومت کی طرف سے اس جانب لئے جانے والا یہ پہلا اقدام ہے جس کا مقصد ملک میں تنازعات اور تشدد کی رپورٹنگ میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ پاکستان کی 34 یونیورسٹیوں اور دنیا بھر سے اس شعبہ سے متعلق ماہرین اور طلباءکانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس کا اختتامی سیشن (آج) بدھ کو ہو گا جس کی صدارت چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی کریں گے۔








