"وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی کانگریس کے ارکان مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریان کیتھ زنکے سے ملاقات میں تعلیم، باہمی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔”
وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی مائیکل جیمز بامگارٹنر اورریان کیتھ زنکے سے دوطرفہ ملاقات ، پاک-امریکہ تعلیمی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے پانچویں کانگریشنل ضلع کے نمائندے کانگریس مین مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریاست مونٹانا کے پہلے کانگریشنل ضلع کے نمائندے اور سابق امریکی وزیرِ داخلہ کانگریس مین ریان کیتھ زنکے سے دوطرفہ ملاقات کی۔
اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کے چیئرمین قمرالاسلام راجہ، وزارت کے سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ملاقات میں سائبر سکیورٹی کی تعلیم اور استعدادِ کار میں اضافے کے شعبے میں تعاون کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے طلبہ اور پیشہ ور افراد کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کی غرض سے سائبر سکیورٹی کے خصوصی کورسز اور سرٹیفیکیشن پروگرامز تیار کئے جائیں۔ دونوں فریقوں نے پاکستان اور امریکہ کی جامعات اور تعلیمی اداروں کے درمیان نصاب کی تیاری، فیکلٹی تعاون، مشترکہ تحقیق اور سائبر سکیورٹی سمیت دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں علمی تبادلے کے فروغ میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے امریکی کانگریسی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ دورہ پاکستان اور امریکہ کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔حکومتِ پاکستان نے اس امر کا اعادہ کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات اس کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہیں اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، صحت، تعلیم اور زراعت سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کانگریسی وفود کے دوروں کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے تبادلے مستقبل میں بھی باقاعدگی سے جاری رہیں گے۔ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ تعلیمی تعاون پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات کی بنیادوں میں سے ایک اہم ستون ہے۔ وفاقی وزیر نے فل برائٹ پروگرام اور امریکہ کے دیگر تعلیمی تبادلہ پروگراموں کی کامیابی کو سراہا جو مکمل طور پر فنڈڈ، میرٹ پر مبنی اور پاکستان بھر کے طلبہ و محققین کے لئے امریکہ پاکستان تعلیمی فاؤنڈیشن کے ذریعے دستیاب ہیں۔ انہوں نے تمام صوبوں اور مختلف تعلیمی شعبوں خصوصاً توانائی، پانی، زراعت، صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مطالعات میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ 44 ہزار سے زائد پاکستانی امریکی حکومت کے مختلف تعلیمی تبادلہ پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں جو انسانی وسائل کی ترقی اور عوامی روابط کے فروغ میں ایک اہم سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان اور امریکہ کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری کے ذریعے تعلیمی تعاون کو محفوظ، مستحکم اور مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں فریقوں نے مشترکہ تحقیقی مراکز، دوہری ڈگری پروگرامز، فیکلٹی تبادلوں اور صحتِ عامہ، موسمیاتی لچک، آبی وسائل کے انتظام، غذائی تحفظ اور اساتذہ کی تربیت کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ دونوں ممالک کے قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک کا مکمل احترام یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی تاکہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔اہم اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ اور امیگریشن و ویزا پالیسیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی جامعات اور صنعتیں اب بھی بین الاقوامی سٹیم صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بننے کے لئے تیار ہے اور پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جامعات اور ان کے امریکی شراکت داروں کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، فِن ٹیک اور ایگری ٹیک کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ملاقات میں ہدفی تعلیمی نقل و حرکت کے پروگراموں، قلیل مدتی تحقیقی تبادلوں، ورچوئل لیبارٹریز اور مشترکہ جدت طرازی کے مراکز کے قیام کے امکانات پر بھی غور کیا گیا تاکہ تحقیق، کاروباری جدت اور مہارتوں کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلیم، وظائف اور جدت طرازی دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے اور باہمی اعتماد و افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے مؤثر ترین ذرائع میں شامل ہیں۔وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے امریکہ کے ساتھ تعلیمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تعلیم، تحقیق، جدت طرازی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں مسلسل تعاون دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائے گا۔








