وفاقی وزیر جام کمال کا سیاسی قیادت پر تحمل، قومی اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مولانا فضل الرحمان کے ریاستی اداروں اور حکومت سے متعلق بیانات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے، قومی اتحاد کو فروغ دے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں سمیت ملک کو درپیش معاشی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کرے۔

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مولانا فضل الرحمان کے ریاستی اداروں اور حکومت سے متعلق بیانات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے، قومی اتحاد کو فروغ دے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں سمیت ملک کو درپیش معاشی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کرے۔ہفتہ کوسماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سنگین معاشی، سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں ذمہ دار سیاسی قیادت سے تحمل، پختگی اور قومی اتحاد کے عزم کی توقع کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ دشمن خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پاکستان کی خودمختاری کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

جام کمال خان نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا لازمی حصہ ہیں اور ہر سیاسی رہنما کو حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے اور انتظامیہ کااحتساب کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم تنقید تعمیری، ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات جو قومی اداروں کو کمزور کریں یا تقسیم کو گہرا کریں، نہ جمہوریت کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی پاکستان کے قومی مفادات کے لیے سودمند ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایوان میں تفصیل سے بتایا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کیا اقدامات کرنے کی توقع کی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبہ صرف تعاون، مشترکہ ذمہ داری قبول کرنے اور دونوں حکومتوں کی مربوط کوششوں کا تھاجس میں دہشت گردی کےخلاف جنگ میں صوبائی حکومت کو قائدانہ کردار ادا کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج ایک اہم قومی ادارہ ہے جسے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

وفاقی وزیرنے کہا کہ جنگ اور ایسے حالات میں جب بہت سی جانیں ضائع ہو رہی ہوں، توہین آمیز بیانات دینا خود غرضی کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نےکہا کہ حکومت کو بھی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیےجبکہ وہ عوام اور جمہوری عمل کے سامنے جوابدہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کو ہمیشہ سیاسی مصلحت پر ترجیح دی جانی چاہیے، خصوصاً ایسے نازک وقت میں جب خطے میں جنگوں کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور رابطوں کے نظام میں عدم استحکام کے باعث عالمی معیشت اور مہنگائی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جام کمال خان نے کہا کہ یہ تمام حقائق واضح ہیں اور دنیا میں ہونے والی تبدیلیاں سب کےسامنے ہیں۔ اختلافات کو جمہوری بحث، آئینی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے نہ صرف آمادگی ظاہر کی بلکہ وزیراعظم نے بھی ایک بار پھر بات چیت کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے جو قومی اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے اورملکی ماحول کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ پیدا کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایک اہم ترین عالمی تنازع کے حل کے لیے کلیدی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے اورعالمی برادری کا اعتماد حاصل کر رہا ہے، تاہم ان کے بقول اپوزیشن قومی کوششوں کی حمایت کرنے کےبجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان عالمی مذاکرات میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کا فائدہ پوری دنیا،متاثرہ خطے کے عوام اور پاکستانیوں کو پہنچے گا، عالمی مہنگائی میں کمی آئے گی اور سپلائی چین معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں تاثر نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے اور ملک کو اب بین الاقوامی سطح پر زیادہ احترام حاصل ہو رہا ہے۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ان عناصر کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں جو پاکستان کو کامیاب اورخوشحال ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے اور وسیع تر قومی مفاد کو محدود سیاسی فائدے پر قربان کرنے سے گریز کریں۔

مزید خبریں