وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 13 فروری (اے پی پی) کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے ایکٹو پرائیویٹائزیشن لسٹ پر پیشرفت کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس فہرست میں نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی، ایس ایم ای بینک، ماڑی پٹرولیم …

اسلام آباد ۔ 13 فروری (اے پی پی) کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے ایکٹو پرائیویٹائزیشن لسٹ پر پیشرفت کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس فہرست میں نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی، ایس ایم ای بینک، ماڑی پٹرولیم کمپنی میں حکومتی حصص کی نجکاری، سروسز انٹرنیشنل ہوٹل، لاکھڑا کول ڈویلپمنٹ کمپنی، جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فہرست میں شامل سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں سے متعلق پیشرفت مختلف مراحل پر ہے۔ کمیٹی کو 31 اکتوبر 2018ءکو ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیصلہ کے تحت پی آئی اے سمیت 15 اداروں کو نجکاری پروگرام سے نکال دیا گیا۔ پی آئی اے کے سینئر حکام نے کمیٹی کو روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کے بارے میں بتایا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس حوالہ سے باضابطہ پروپوزل جون 2019ءتک پیش کی جائے۔ علاوہ ازیں کامرس ڈویژن کو بھی ہدایت کی گئی کہ انشورنس اینڈ ری انشورنس شعبہ سے متعلق سٹڈی تیز کی جائے اور ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری کیلئے تجاویز تیار کی جائیں۔ کامرس ڈویژن اس سلسلہ میں 31 مارچ تک اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ علاوہ ازیں پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ گیس کے شعبہ کیلئے مسابقتی مارکیٹ پیدا کرنے کے سلسلہ میں ریگولیٹری فریم ورک پر کام کی رفتار تیز کی جائے۔