وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے بدھ کو وزارت خزانہ میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے وفد سے ملاقات کی اور ٹیکسٹائل شعبے کو درپیش اہم مسائل کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے مسلسل رابطے اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات کے دوران وفاقی وزراء نے اس امر پر …

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے بدھ کو وزارت خزانہ میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے وفد سے ملاقات کی اور ٹیکسٹائل شعبے کو درپیش اہم مسائل کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے مسلسل رابطے اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات کے دوران وفاقی وزراء نے اس امر پر زور دیا کہ ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ برآمدات، روزگار اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے وسیع تر معاشی اصلاحات کے فریم ورک کے تحت اس شعبے کے پائیدار مستقبل کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔وفاقی وزراء نے کاروباری طبقے کے لیے منصفانہ اور قابل پیش گوئی پالیسی ماحول برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کو بھی دہرایا اور اس بات پر زور دیا کہ معیشت میں مساوات، شفافیت اور ہمہ گیر شمولیت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ضابطہ کار شعبوں کے حقیقی تحفظات کے ازالے کے لیے اقدامات جاری ہیں جبکہ ساختی اصلاحات کو مشاورت اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے وفد کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حکومت برآمدی صنعتوں کے لیے کاروبار کی لاگت کو متاثر کرنے والے مختلف امور کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں استطاعت اور فراہمی کا تسلسل اہم ترجیحات میں شامل ہے اور متعلقہ وزارتوں اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ ایسے آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے جن سے کارکردگی اور مسابقت میں بہتری آئے جبکہ مالی نظم و ضبط اور نظام کی پائیداری بھی برقرار رہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات متوازن انداز میں کی جا رہی ہیں تاکہ صنعتی پیداوار کو سہارا دیا جا سکے اور قومی معیشت کے طویل المدتی مفادات کا تحفظ ہو۔ انہوں نے کہا کہ فوری نوعیت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ وسیع تر پالیسی معاملات کو بجٹ اور اصلاحاتی نظام کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ملاقات میں بعض صنعتی علاقوں میں آپریشنل رکاوٹوں اور سپلائی سائیڈ سے متعلق چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزراء نے وفد کو یقین دلایا کہ صنعتوں کی بلا تعطل سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ اس موقع پر حکومت اور صنعت کے مابین تعمیری رابطے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملکی اور عالمی معاشی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔اس سے قبل اپٹما کے وفد نے وفاقی وزراء کو ٹیکسٹائل سیکٹر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں برآمد کنندگان کو درپیش دبائو سے آگاہ کیا۔

وفد نے نشاندہی کی کہ عالمی منڈی کے بدلتے رجحانات اور پیداواری لاگت میں اضافے نے شعبے کے لیے چیلنجز پیدا کر دیئے ہیں اور برآمدات و روزگار کے تسلسل کے لیے ایک مستحکم اور معاون پالیسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔وفد نے توانائی کے نرخوں، ریگولیٹری تقاضوں اور ٹیکس سے متعلق مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ مجموعی لاگت کے دبائو سے عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہوتی ہے۔

پالیسیوں میں تسلسل، آپریشنل مسائل کے بروقت حل اور حکومت کے ساتھ مسلسل مکالمے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ صنعت مستقبل کی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری اعتماد کے ساتھ کر سکے۔اپٹما کے وفد میں چیئرمین کامران ارشد، چیئرمین نارتھ زون اسد شفیع، سینئر وائس چیئرمین محمد جمیل قاسم، وائس چیئرمین شہزاد احمد شیخ، وائس چیئرمین صدیق جاوید بھٹی، سابق چیئرمین عامر فیاض شیخ، سابق چیئرمین رحیم ناصر، سینئر ممبر خرم انعام، سیکرٹری جنرل رضا باقر، انرجی ایڈوائزر عاصم ریاض اور سینئر اکنامسٹ سید ابصر علی شامل تھے۔ اجلاس میں سیکرٹری پاور ڈویژن اور وزارت خزانہ و محصولات کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔