وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت قومی نجی ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کیلئے قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیر اعظم کی جانب سے قومی نجی ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کیلئے قائم کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں پاکستان میں پرائیویٹ ایکویٹی کے شعبے کو مضبوط بنانے، ملکی و غیر ملکی طویل مدتی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کیلئے سرمایہ کی تشکیل میں نجی ایکویٹی کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیر اعظم کی جانب سے قومی نجی ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کیلئے قائم کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں پاکستان میں پرائیویٹ ایکویٹی کے شعبے کو مضبوط بنانے، ملکی و غیر ملکی طویل مدتی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کیلئے سرمایہ کی تشکیل میں نجی ایکویٹی کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔

کمیٹی نے اس امر کو اجاگر کیا کہ پرائیویٹ ایکویٹی کے ذریعے ابھرتے ہوئے اور ترجیحی شعبوں میں ترقیاتی سرمایہ فراہم کیا جا سکتا ہے، کاروباروں کو وسعت دی جا سکتی ہے، پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ پاکستانی کاروباری اداروں کو بڑے پیمانے پر ترقی کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ مجوزہ پالیسی فریم ورک نجی شعبے کی قیادت میں تیار کیا جائے جبکہ حکومت کا کردار سازگار ماحول کی فراہمی، واضح اور آسان ریگولیٹری نظام وضع کرنے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل پالیسی و ٹیکس رکاوٹوں کو دور کرنے تک محدود ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد براہ راست سرکاری فنڈنگ فراہم کرنا نہیں بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو آسان بنانا ہے۔

اجلاس میں پاکستان میں موجودہ پرائیویٹ ایکویٹی ایکو سسٹم کا جائزہ لیا گیا اور معاون ٹیکس و ریگولیٹری فریم ورک کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ضمن میں پرائیویٹ ایکویٹی فنڈز کو سرمایہ کاری کے موثر ذرائع کے طور پر مناسب ٹیکس سلوک دینے اور طویل مدتی سرمایہ کاری و سرمائے کی دوبارہ سرمایہ کاری کیلئے زیادہ لچک پیدا کرنے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔کمیٹی نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے کردار پر بھی غور کیا تاکہ پیشہ ورانہ انداز میں چلنے والے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈز کے ذریعے طویل مدتی سرمایہ متحرک کیا جا سکے۔

اس عمل میں مناسب ریگولیٹری تحفظات اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگی برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ پرائیویٹ ایکویٹی کاروباری توسیع، انضمام و حصول، کاروباری تنظیم نو، نجکاری اور دیگر طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔وزیر خزانہ نے سرمایہ کاروں کیلئے قابل عمل کاروباری منصوبوں اور سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی واضح پائپ لائن تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سرمایہ کاروں کو بہتر مواقع اور معلومات دستیاب ہوں اور طویل مدتی سرمایہ موثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔

کمیٹی نے اپنے کام کو آگے بڑھانے کیلئے چار ورک سٹریمز قائم کرنے پر اتفاق کیا جو ٹیکس معاملات، ریگولیٹری فریم ورک، کاروباری حکمت عملی اور سرمایہ کاری کے قابل کاروباری منصوبوں کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کریں گے۔کمیٹی اپنی سفارشات کو یکجا کرکے قومی نجی ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی شکل دے گی اور اسے وزیر اعظم کی منظوری کیلئے پیش کرے گی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ سفارشات جامع، عملی اور قابل عمل ہونی چاہئیں تاکہ طویل مدتی سرمایہ کو متحرک کیا جا سکے، نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور پائیدار و جامع معاشی ترقی میں مدد حاصل ہو۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سمیت متعلقہ سرکاری و نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔