وفاقی وزیر خزانہ و محصولات کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے مشن سے ابتدائی ملاقات ،پالیسی اقدامات اور آئندہ جائزوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے مشن سے منگل کوابتدائی ملاقات کی

اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے مشن سے منگل کوابتدائی ملاقات کی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا مشن پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چوتھے اورریزسٹنس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے کے لیے پاکستان کے دورے پرہے،آئی ایم ایف مشن کی قیادت آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔ ملاقات میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت، پالیسی اقدامات اور آئندہ جائزوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ابتدائی ورچویل بات چیت میں وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی ،چئیرمین ایف بی آرراشدمحمودلنگڑیال اوروزارت خزانہ کے سیئنر حکام بھی موجودتھے،پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت اور ریزسٹنس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت(آرایس ایف) کے تحت پروگرام پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ توسیعی فنڈسہولتکا بنیادی مقصد پاکستان کی مالیاتی اور بیرونی شعبے کی پائیداری بہتر بنانا، معاشی استحکام کو مضبوط کرنا اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اس کے تحت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس کے شعبہ میں اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری اور سرکاری اداروں سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ریزسٹنس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت طویل مدتی ڈھانچہ جاتی ساختی مسائل، بالخصوص موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی معیشت کو زیادہ لچکدار بنانے سے متعلق ہے۔ اس پروگرام کے تحت موسمیاتی پالیسی، توانائی، قدرتی وسائل اور مالیاتی و ادارہ جاتی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات پر زور دیا جارہاہے جو پاکستان کی موسمیاتی اور معاشی لچک میں اضافہ ہوں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنے تیسرے جائزے کے اختتام پراپنے بیان میں قراردیاتھاکہ مضبوط پالیسیوں پر مو¿ثر عملدرآمد کے نتیجے میں پاکستان کی معاشی بحالی کا عمل جاری ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور معیشت کو مختلف نوعیت کے دھچکوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو میں تیزی آئی، جبکہ مہنگائی قابو میں رہی، جاری کھاتہ مجموعی طور پر متوازن رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی پہلے کے اندازوں سے بہتر رہا۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات پاکستان کے قلیل مدتی معاشی منظرنامے کو متاثر کر رہے ہیں اور آئندہ صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ بنیادی منظرنامے کے تحت جنگ کے نتیجے میں مہنگائی پر دباو¿ بڑھنے، معاشی نمو اور توازنِ ادائیگی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، تاہم مجموعی اثرات محدود رہنے کی توقع ہے۔

مزید خبریں