کراچی ۔ 12 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ کے بعد سمندری تجارتی راستے کی اہمیت بڑھ گئی ہے جسے سکیورٹی اداروں کی مدد سے مزید محفوظ بنانا ہو گا، بقراط اورسقراط کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ بیرونی اشاروں پر عوام میں سی پیک کے حوالے سے مایوسیاں پھیلانا بند کریں، افغانستان کے ساتھ بارڈر پر نگرانی کا …
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی پاکستان کوسٹ گارڈز ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے بعد صحافیوں سے بات چیت
کراچی ۔ 12 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ کے بعد سمندری تجارتی راستے کی اہمیت بڑھ گئی ہے جسے سکیورٹی اداروں کی مدد سے مزید محفوظ بنانا ہو گا، بقراط اورسقراط کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ بیرونی اشاروں پر عوام میں سی پیک کے حوالے سے مایوسیاں پھیلانا بند کریں، افغانستان کے ساتھ بارڈر پر نگرانی کا موثر بندوبست کر رہے ہیں تاکہ دراندازی کا سلسلہ بند ہوسکے، خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے میں ملوث گروپ پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے، پاکستان کی سول حکومت اور عسکری ادارے مل کر موثر انداز میں عالمی عدالت میں کلبھوشن کے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں، وزیر اعظم کے تبدیل ہونے سے پالیسوں میں تبدیلی نہیں آئے گی، ہمیں دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا، چین ہمارا ہر مشکل وقت کا ساتھی ہے اس نے اس وقت 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جب کوئی پاکستان میں 10 ڈالر کی سرمایہ کاری کو تیار نہیں تھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاکستان کوسٹ گارڈ کے ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے بعد صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے یادگار شہداءپر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔









