وفاقی وزیر سکندر حیات خان بوسن کاعالمی یوم خوراک کے حوالہ سے تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 16 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، روزگار کے مواقع بڑھا کر اور کاروباری سرگرمیوں اضافہ کرکے آبادی کی منتقلی کا کنٹرول کیا جا سکتا ہے، بین الاقوامی اداروں ایف اے او، ڈبلیو ایف پی اور دیگر زرعی اداروں کے تعاون …

اسلام آباد ۔ 16 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، روزگار کے مواقع بڑھا کر اور کاروباری سرگرمیوں اضافہ کرکے آبادی کی منتقلی کا کنٹرول کیا جا سکتا ہے، بین الاقوامی اداروں ایف اے او، ڈبلیو ایف پی اور دیگر زرعی اداروں کے تعاون سے پاکستان میں غذائی تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم خوراک کے حوالہ سے قومی زرعی تحقیقاتی سنٹر (این اے آر سی) میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا انعقاد ”عالمی یوم خوراک دیہی آبادی کی شہروں کی جانب منتقلی، تحفظ خوراک اور زراعت کی اہمیت“ کے موضوع پر کیا گیا۔ اس موقع پر صدر اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عالمی یوم خوراک کے حوالہ سے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے جس میں حکومت پاکستان اور ایف اے او کے مابین تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سکندر حیات خان بوسن نے کہا کہ دیہی آبادی کی شہروں کی جانب منتقلی ہمیں اس بات کی جانب سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس سے تحفظ خوراک کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دیہی آبادی کو ایسی سہولیات مہیا کرنا ہوں گی جس سے وہ شہروں کی جانب منتقل نہ ہوں بلکہ دیہات میں ہی ان کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

Leave a Reply