اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں درپیش چیلنجز اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سینٹرل مینجمنٹ یونٹ کے اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ …
وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں درپیش چیلنجز اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سینٹرل مینجمنٹ یونٹ کے اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملک میں ایچ آئی وی کی روک تھام، بروقت تشخیص، علاج کی دستیابی اور آگاہی مہمات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک ایچ آئی وی سکریننگ اور علاج مرکز قائم کیا جائے تاکہ عوام کو اپنے علاقوں میں معیاری علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے بارڈر ہیلتھ سروسز ریگولیشن کی سفارشات پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرحدوں سے آنے والے ہر فرد کی مناسب سکریننگ کو یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام وضع کیا جائے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ملک میں ایچ آئی وی سے متاثر تمام افراد کی بروقت تشخیص تاحال ممکن نہیں ہو سکی جس کے لیے مربوط اور موثر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف موثر جدوجہد کی بنیاد عوامی آگاہی ہے، لہٰذا شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سکریننگ کروائیں کیونکہ یہ نہ صرف ان کی اپنی بلکہ ان کے اہل خانہ اور معاشرے کی صحت کا معاملہ ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اس اہم عوامی صحت کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام شراکت دار اداروں نے وزیر صحت کی قیادت میں جاری اقدامات کو سراہا اور وزارت صحت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔








