وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے قطر کے سفیر کی ملاقات، زرعی شعبے میں تعاون کے فروغ ، برادرانہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں بدلنے کے امکانات پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے پاکستان میں قطر کے سفیر علی بن مبارک الخاطر نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور برادرانہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں بدلنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بدھ کو وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کی طرف سے جاری بیان …

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے پاکستان میں قطر کے سفیر علی بن مبارک الخاطر نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور برادرانہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں بدلنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بدھ کو وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے قطر کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے، برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے ، ہم ایک قوم ہیں، ترقی و خوشحالی کا ہمارا ہدف مشترک ہے۔رانا تنویر حسین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ قریبی سفارتی و ثقافتی تعلقات کے باوجود زرعی شعبے میں پاکستان اور قطر کے درمیان تعاون محدود ہے اور پاکستان کی زرعی برآمدات قطر کو خطے کے دیگر ممالک بالخصوص بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات خصوصاً حلال گوشت، پھل، سبزیاں، چاول اور مویشیوں کے چارے کی سپلائی کے لیے زبردست صلاحیت موجود ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے وژن کے تحت سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے میں مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی تجویز دی تاکہ دوطرفہ تعاون کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک تیار کیا جا سکے اور ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی ہو سکے۔رانا تنویر حسین نے قطر کے سفیر کو پاکستان کی نئی زرعی مصنوعات سے بھی آگاہ کیا جن میں اونٹ کے خشک دودھ کی تیاری اور برآمد شامل ہے۔ یہ دودھ پہلے ہی امریکا اور چین کو برآمد کیا جا رہا ہے جبکہ سعودی عرب نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے روڈز گراس (Rhodes Grass) کی برآمد اور فیڈ لاٹ فیٹننگ فارم کے صنعتی پیمانے پر منصوبے تیار کیے ہیں جو قطر کی خوراک اور چارے کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی بھرپور دعوت دیتی ہے، ہم ہر سطح پر سہولت، زمین کی فراہمی اور مربوط رابطہ کاری کو یقینی بنائیں گے۔قطر کے سفیر علی بن مبارک الخاطر نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس وسیع زرعی وسائل اور مہارت یافتہ افرادی قوت موجود ہے، جو قطر کے خوراکی تحفظ کے وژن 2030 میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ قطر کے وزیر تجارت جلد پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ نئی سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ انہوں نے اپنی مکمل دستیابی کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی کہ دونوں ممالک فوکل پرسنز مقرر کریں تاکہ رابطہ کاری اور منصوبوں کی پیش رفت پر مسلسل کام جاری رہے۔فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ زرعی شعبے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت( MoU) پر کام کیا جائے اور تجارتی سطح (بی ٹو بی) پر تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اور قطر ایمان، بھائی چارے اور دوستی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اور پاکستان قطر کے خوراکی تحفظ کے اہداف کے حصول میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔