وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کا 7واں اجلاس، اصلاحات پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ

وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ، قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کا 7واں اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان میں کاروبار میں آسانی کے فروغ کے لئے وسیع پیمانے پر ریگولیٹری اصلاحات پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ، قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کا 7واں اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان میں کاروبار میں آسانی کے فروغ کے لئے وسیع پیمانے پر ریگولیٹری اصلاحات پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی جن میں ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ ذوالفقار علی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔اجلاس کا بنیادی ایجنڈا اصلاحات پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور ایسے شعبوں کی نشاندہی کرنا تھا جہاں فوری توجہ درکار ہے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اب تک مجموعی طور پر 410 اصلاحات کی منظوری دی جا چکی ہے جن میں سے ایک بڑی تعداد پر عملدرآمد ہو چکا ہے، 264 اصلاحات درست سمت میں جاری ہیں جبکہ 67 اصلاحات کو سست روی کا شکار قرار دیتے ہوئے ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے آغاز میں چند سابقہ متنازعہ فیصلوں پر بھی غور کیا گیا اور ان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ مجموعی پیشرفت حوصلہ افزا ہے تاہم بعض اصلاحات پر بروقت عملدرآمد کے لئے مزید توجہ درکار ہے۔

اجلاس کے دوران اہم اصلاحاتی شعبوں پر غور کیا گیا جن میں ریگولیٹری سادہ کاری، ڈیجیٹائزیشن، اور غیر ضروری طریقہ کار کے خاتمے شامل ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ غیر ضروری اجازت ناموں خصوصاً برآمدات سے متعلق اجازت ناموں کو کم سے کم کیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو سہولت ملے جبکہ درآمد کرنے والے ممالک کے معیار کو برقرار رکھا جائے۔کمیٹی نے وسیع تر ریگولیٹری شعبوں میں اصلاحات کا بھی جائزہ لیا جس میں طریقہ کار کو آسان بنانے اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔ بلدیاتی سطح پر تجارتی لائسنس کے خاتمے سے متعلق اصلاحات پر بھی غور کیا گیاجبکہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے متعلق چند اصلاحات بھی زیر بحث آئیں۔اجلاس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان سے متعلق مجوزہ ترامیم پر بھی غور کیا گیاجہاں وضاحت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے ترامیم کی زبان پر نظرثانی کی گئی۔اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ بین الاقوامی شراکت داروں نے پاکستان کی اصلاحاتی پیشرفت کو سراہا اور ملک کے بہتر ہوتے ہوئے کاروباری ماحول پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عالمی تاثر نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ مقامی کاروباری برادری بھی حکومت کی جانب سے غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے کی کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت جامع اصلاحات کے ذریعے کاروبار میں آسانی کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کو منظم انداز میں ختم کیا جا رہا ہے تاکہ ایک شفاف اور کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جا سکے۔آف ٹریک اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عملدرآمد کے عمل کو تیز کیا جائے، رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور شفافیت و کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹائزیشن کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے اب تک کی پیشرفت کو سراہتے ہوئے تمام اداروں کو اسی جذبے اور عزم کے ساتھ کام جاری رکھنے کی تلقین کی۔اجلاس کو اسمارٹ پراجیکٹ کی جانب سے پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ، جو ایک منظم نگرانی کے نظام کے ذریعے اصلاحات کے عملدرآمد کی نگرانی اور معاونت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ نے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ریگولیٹری اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی اور بہتر کاروباری ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی قیادت میں سرمایہ کاروں کی سہولت اور ملک میں کاروبار میں آسانی کے فروغ کے لئے پُرعزم ہے۔