اسلام آباد۔25اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور ایران نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سڑک، ریلوے اور بحری رابطوں کو مضبوط بنا کر بلیو اکانومی میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ پیشرفت ہفتے کو یہاں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور ایران کی وزیر برائے روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے …
وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری سے ایرانی وزیر فرزانہ صادق کی ملاقات، دونوں ممالک کے درمیان سڑک، ریلوے اور بحری رابطوں کو مضبوط بنا کر بلیو اکانومی میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے بارے تبادلہ خیال کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور ایران نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سڑک، ریلوے اور بحری رابطوں کو مضبوط بنا کر بلیو اکانومی میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ پیشرفت ہفتے کو یہاں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور ایران کی وزیر برائے روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیاگیا۔ فریقین نے تجارت، سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کے روابط کو فروغ دینے کے لیے علاقائی رابطوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے سمندری تجارت کو آسان بنانے، بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے اور دونوں ممالک کو سمندری، زمینی اور ریل نیٹ ورک کے ذریعے جوڑنے والے لاجسٹک راستوں کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ محمد جنید انوارچوہدری نے پاکستان اور ایران کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ زائرین اور تاجروں دونوں کے لیے ایک سستا اور موثر ٹرانسپورٹ متبادل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسی سروس چلانے میں دلچسپی رکھنے والے کسی بھی ایرانی کاروباری ادارے یا کمپنی کا خیرمقدم کرے گا، ایران کی ایندھن کی کم قیمتیں مسافروں کے لیے رعایتی اور سستی کرایوں میں مدد کر سکتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس طرح کی فیری سروس نہ صرف دو طرفہ تجارت میں اضافہ کرے گی بلکہ ایران اور عراق جانے والے زائرین کے لیے ایک سستا سفری آپشن بھی پیش کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ 2025 میں تقریباً 60,000 سے 70,000 پاکستانی زائرین نے ہوائی جہاز کے ذریعے اربعین میں شرکت کی، فیری سروس ممکنہ طور پر تعداد کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے آئندہ سال سے شروع ہونے والی سنٹرلائزڈ حج مینجمنٹ پالیسی متعارف کرانے کے منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا، نئے فریم ورک کے تحت تمام عازمین کو زیادہ حفاظت اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے رجسٹرڈ ٹوور آپریٹرز کے ذریعے سفر کرنے کی ضرورت ہوگی، ایران پاکستانی زائرین کے بڑھتے بہاؤ سے اہم مالی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے مذہبی سیاحت اور تجارت کی حمایت کے لیے بنیادی ڈھانچے کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کی بندرگاہیں بڑے اقتصادی اثاثوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو علاقائی تجارت کے لیے گیٹ ویز کا کام کر سکتی ہیں۔ انہوں نے بندرگاہ سے بندرگاہ تعاون کو بڑھانے اور بحیرہ عرب اور خلیج فارس میں نئے تجارتی راستوں کی تلاش کے مشترکہ عزم پر زور دیا۔
فرزانہ صادق نے کہا کہ دونوں ممالک کی بندرگاہیں ہماری معیشتوں کی مالیاتی طاقت ہیں،بحری اور ٹرانسپورٹ روابط کو بہتر بنا کرہم علاقائی تجارت اور اقتصادی خوشحالی کے لیے نئے افق کھول سکتے ہیں۔ فریقین نے بلیو اکانومی کو آگے بڑھانے اور پاکستان ایران تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع تر کوششوں کے طور پر میری ٹائم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔








