وفاقی وزیر ممتاز احمد تارڑ اور وزیر مملکت بیرسٹر عثمان ابراہیم سے ہندو اور عیسائی برادری کے رہنماﺅںکے وفد کی ملاقات عیسائی شادی، طلاق بل 2017ءاور ہندو شادی ایکٹ 2017ءکے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اسلام آباد ۔ 25 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ اور وزیر مملکت برائے انسانی حقوق بیرسٹر عثمان ابراہیم سے پاکستان بھر میں ہندو اور عیسائی برادری کے …
وفاقی وزیر ممتاز احمد تارڑ اور وزیر مملکت بیرسٹر عثمان ابراہیم سے ہندو اور عیسائی برادری کے رہنماﺅںکے وفد کی ملاقات

مزید خبریں
وفاقی وزیر ممتاز احمد تارڑ اور وزیر مملکت بیرسٹر عثمان ابراہیم سے ہندو اور عیسائی برادری کے رہنماﺅںکے وفد کی ملاقات
عیسائی شادی، طلاق بل 2017ءاور ہندو شادی ایکٹ 2017ءکے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا
اسلام آباد ۔ 25 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ اور وزیر مملکت برائے انسانی حقوق بیرسٹر عثمان ابراہیم سے پاکستان بھر میں ہندو اور عیسائی برادری کے رہنما وںکے ایک وفد نے ملاقات کی ۔ جس میںعیسائی شادی، طلاق بل 2017ءاور ہندو شادی ایکٹ 2017ءکے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وفد نے کہا کہ عیسائی شادی اور طلاق بل 2017ءکی دفعات بائبل کے مطابق ہونی چاہئے جبکہ وفد نے اس حوالہ سے صوبائی سطح پر ہندو اور عیسائی شادیوں کے ایکٹ کے نفاذ اور تجویز کردہ ترمیم کےلئے تیز رفتار عمل کےلئے درخواست کی۔ وفد نے بتایا کہ عیسائی برادری نے اپنی برادریوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے کے بعد شادی اور طلاق پر بل کا مسودہ تیار کیا اور غور کےلئے وزارت کے حوالہ کیا۔ خواتین کی حیثیت پر قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے مارچ 2012ءمیں عیسائی شادی (ترمیم) بل اور عیسائی طلاق (ترمیم) بل انسانی حقوق کی وزارت انسانی حقوق کو بھیجا تھا۔ وزیر مملکت برائے انسانی حقوق بیرسٹر عثمان ابراہیم نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق عیسائی شادی اور طلاق بل 2017ءکو وزارت قانون کو بھیجے گی جبکہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق قومی اسمبلی کی منظوری تک اس عمل کی پیروی کرے گی۔








